The news is by your side.

Advertisement

ادارے اپنی ناکامیوں کا ملبہ ہمارے سرڈال دیتے ہیں، چیف جسٹس آف پاکستان

لاڑکانہ: چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس انور ظہیر جمالی نے کہا ہے کہ ’’پاکستان کو ابھی تک ایسی قیادت نہیں مل سکی جو ملک کو ترقی کی جانب گامزن کر سکے۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے لاڑکانہ ڈسٹرکٹ بار میں منعقدہ تقریب میں بطور مہمان خصوصی خطاب کرتے ہوئے کیا، تقریب سے خطاب کرتے ہوئے چیف جسٹس نے کہا کہ ’’ملک میں تیس سال مارشل لاء نافذ رہا اور اس دوران ذاتی مفادات کے لیے قانون سازی کی گئی‘‘۔

انہوں نے مزید کہا کہ ملک میں کوئی بھی ادارہ اپنے ذمہ داریاں پوری نہیں کرتا اور  پھر اُس کی ناکامی کا ملبہ عدلیہ کے سر پر ڈال دیا جاتا ہے۔

چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ بدقسمتی سے  پاکستان میں فلاحی ریاست کا قیام آج تک شرمندہ تعبیر نہیں ہوسکا۔

دوسری جانب لاڑکانہ بار ایسوسی ایشن کی جانب سے جسٹس انور ظہیر جمالی کی خدمت اعلیٰ نسل کا عربی گھوڑا اور بکرا نطورِ تحائف پیش کیے گئے۔

اس موقع پر انہوں نے تحائف وصول کرنے سے معذرت کرتے ہوئے کہا کہ ’’میں دس ہزار روپے سے زائد مالیت کے تحائف وصول نہیں کرسکتا‘‘۔

’’چیف جسٹس نے مزید کہا کہ اگر میں یہ تحائف وصول بھی کرلوں تو ان کے کھانے پینے کا خیال نہیں رکھ سکتا مگر نشانی کے طور پر ان کے ساتھ تصاویر بنوا کر اپنےکمرے میں لگالوں گا۔ چیف جسٹس آف پاکستان نے مذکورہ قیمتی تحائف شکریہ کے ساتھ واپس لوٹا دئیے۔

CJ returns gifts of Larkana Bar by arynews
 

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں