The news is by your side.

Advertisement

اصل خوشبو کی پہچان؟ کویتی ماہر نے اہم بات بتا دی

کویت: ایک کویتی سرمایہ کار کا کہنا ہے کہ خوشبویات کی دنیا میں سب سے زیادہ ملاوٹ عود کے عطر اور بخور میں کی جا رہی ہے، لیکن یہ ضروری ہے کہ اصل خوش بو کی پہچان کی جائے۔

کویتی سرمایہ کار غنم العشیران نے کہا ہے کہ خلیجی شہری عود اور بخور کے بارے میں آگہی حاصل کریں، 50 برس قبل عود کے درخت موجودہ درختوں سے مختلف ہوتے تھے، اب مصنوعی طور پر عود کے درختوں کی کاشت کی جا رہی ہے، انھیں انجیکٹ کیا جاتا ہے تاکہ وہ تیزی سے بڑھیں۔

انھوں نے کہا کہ کاشت کیے ہوئے عود کے درخت قدرتی ہوتے ہیں، جب کہ مصنوعی عود کے استعمال سے سینے اور پھیپھڑے کے امراض ہونے کا خدشہ ہے۔

سبق ویب سائٹ کے مطابق کویتی سرمایہ کار کا کہنا کہ عود میں ملاوٹ کا سلسلہ مشرقی ایشیا کے زرعی فارموں سے لے کر عود فروخت کرنے والی دکانوں تک چلتا ہے، ملاوٹی عود گاہک کو مہنگے داموں فروخت کیا جا رہا ہے جس سے امراض میں مبتلا ہو رہے ہیں۔

غنم العشیران کے مطابق عود کی لکڑی بے حد مہنگی ہوتی ہے اور یہ منافع بخش کاروبار ہے، اس میں لگایا گیا سرمایہ اچھا منافع دیتا ہے، پانچ برس کے دوران عود کی قیمت دگنی ہو جاتی ہے، اور اعلیٰ درجے کے عود کی خوشبو بہت اچھی ہوتی ہے۔

انھوں نے کہا عرب معاشروں میں عود مہمان کے اعزاز و اکرام کی علامت ہے، سعودی شہری طویل عرصے سے عود میں سرمایہ لگائے ہوئے ہیں، اور سعودی خاندانوں میں عود کا کاروبار نسل در نسل چل رہا ہے، انھوں نے مزید کہا کہ خلیج کے عرب ملکوں میں عود سے متعلق آگہی نہ ہونے کے برابر ہے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں