قبائلی علاقوں کے عوام گھرواپسی پرمشکلات کا شکار -
The news is by your side.

Advertisement

قبائلی علاقوں کے عوام گھرواپسی پرمشکلات کا شکار

پشاور: قبائلی علاقوں میں نقل مکانی کرنے والے افراد کی واپسی اور بحالی کے لئے دسمبر 2016کو حتمی قرار دیا جاریا ہے لیکن دعووں کے برعکس اس تمام عمل کو مکمل کرنے کی غرض سے فنڈزکی فراہمی کی رفتار انتہائی سست روی کا شکار ہے جس کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ 67.3ارب کی مطلوبہ رقم میں سے اب تک صرف 13.6ارب روپے جاری کئے گئے ہیں جبکہ 53.7ارب روپے کی رقم ابھی ریلیز ہونی باقی ہے۔

قبائلی علاقوں میں دہشت گردوں کے خلاف کامیاب آپریشن اور وہاں سے ان کے خاتمے کے بعد جب نقل مکانی کرنے والے افراد کی واپس بھیجنے کا فیصلہ کیا گیا تھا تو یہ اعلان بھی سامنے آیا تھا کہ نادرا کی تصدیق کے ساتھ اپنے علاقے کو واپس جانے والے کو دس ہزارروپے سفری اخراجات اورپچیس ہزارضروری گھریلو ضروریات کے لئے دیے جائیں گے اورگھر مکمل تباہ ہونے کی صورت میں چارلاکھ اورجزوی تباہ ہونے والے گھرکے لیے ایک لاکھ ساٹھ ہزارروپے دیے جائیں گے۔

اقوام متحدہ کے ادارے برائے ترقی کی رپورٹ کے مطابق قبائلی علاقوں میں شورش کے باعث ایک لاکھ پانچ ہزارسات سو چوالیس گھر تباہ ہوئے ہیں جن میں تقریبا ستر ہزار مکمل اورتقریبا چالیس ہزارجزوی طورپرہے ان میں سب زیادہ گھروں کی تباہی جنوبی و شمالی وزیرستان میں ریکارڈ کی گئی جن کی تعداد پچاس ہزار سے زائد ہے۔

اس رپورٹ کے مطابق گھروں کی بحالی کی مد میں بتیس ارب روپے کا تخمینہ لگایا گیا تھا۔ ذرائع کا بتانا ہے کہ وفاقی حکومت نے اب تک گھروں کی بحالی کی مد میں صرف پانچ ارب جاری کئے ہیں جبکہ ساٹھ فیصد اپنے گھروں کو واپس جا چکے ہیں اورآرمی چیف کی ہدایت کی روشنی میں باقی چالیس فیصد کا اگلے چھ ماہ دسمبر 2016تک واپس کرنا ہے۔

ذرائع کا کہناہے کہ وفاقی حکومت کو اس حوالے سے بارباریاد دہانی بھی کرائی جارہی ہے کہ گھروں کی بحالی کی مد میں بقایا ستائیس ارب روپے کی رقم بھی جلد فراہم کرے کیونکہ قبائل شہری علاقوں میں مشکل اورتکلیف دہ زندگی گزار کر جب واپسی میں اپنے تباہ حال گھر دیکھتے ہیں تو نہ صرف ان کی تکلیف میں اضافہ ہورہا ہے بلکہ حکومت کے خلاف نفرت بھی پیدا ہورہی ہے۔

یو این ڈی پی کی رپورٹ کے مطابق گزشتہ پندرہ سالوں میں بیس لاکھ سے زائد افراد قبائلی علاقوں سے نقل مکانی کے لئے مجبورہوئے جن میں سترفیصد خواتین اوربچے شامل ہیں۔

ذرائع نے اس بات پر بھی تشویش کا اظہارکیا کہ وفاقی حکومت نے عارضی طورپرنقل مکانی کرنے والے کی واپسی کے ساتھ ساتھ قبائلی علاقوں میں عسکریت پسندی کے باعث تباہ ہونے والے انفراسٹرکچرکی بحالی و تعمیر نو کے لئے بھی تیس ارب روپے کا تخمینہ لگایا گیا تھا اور اس حوالے سے رقم کی فراہمی کے طریقہ کار کے مطابق یہ رقم 2014 سے2017 تک تین مرحلے میں مکمل جاری ہونی تھے اور2014 سے2016تک دو مرحلے گزرنے والے ہیں جس میں چودہ ارب روپے جاری ہونے چاہیے تھے لیکن زمینی حقائق یہ ہیں کہ اب تک صرف پانچ ارب روپے جاری ہوئے ہیں۔

ذرائع کا کہنا تھا کہ یواین ڈی پی کی رپورٹ کے مطابق قبائلی علاقوں میں شورش کے باعث پانچ ہزارسکول، ڈھائی ہزارہسپتال، ایک ہزارپانی فراہمی کی سکیم، ڈھائی ہزاربرقی منصوبوں، چھ ہزارپانچ سو کلومیٹرروڈ، دو ہزارچھ سو آبپاشی، دوہزارچارسو ایریگیشن، سترہ سو لائیو سٹاک اورتقریبا چھ ہزارگورننس کے منصوبوں کی تعمیرنو ہونی ہے۔

قبائلی علاقوں کے عوام نے ملک کی بقا اورپرامن پاکستان کے لئے قربانیاں دیں اوراپنی روایات سے ہٹ کرگھر بارچھوڑکرنقل مکانی کے مشکل ترین دن دیکھے اوراب جب ان کی واپسی ہورہی ہے تو ان کا بہترحالات اور عزت و احترام کے ساتھ اپنے علاقہ بھیجنا اوران کا خیال رکھنا بھی ریاست کی ذمہ داری ہے اوریہی وجہ ہے کہ ان تمام معاملات کو سنجیدگی سے اٹھایا جارہا ہے۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں