The news is by your side.

Advertisement

اگر تفتیشی افسر کو کچھ ہوگیا تو الزام مجھ پر لگا دیا جائے گا، ڈاکٹر عاصم حسین

کراچی: کرپشن کیس میں گرفتار ملزم ڈاکٹر عاصم حسین نے سماعت کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ  نیب کو اپنے آپ سے ہی خطرہ ہے۔

تفصیلات کے مطابق آج سماعت کے دوران استغاثہ کی جانب سے دوسرے گواہ مختار حسین جو اسپتال کی آڈٹ فرم میں بطور  ایڈمن اسسٹنٹ کام کرتے ہیں نے جج کے روبرو پیش ہو کر اپنا بیان قلمبند کروایا اور دس سالہ آڈٹ رپورٹ پیش کی گئی۔

اس موقع پر ڈاکٹر عاصم کے وکیل کی جانب سے دوسرے گواہ پر استغاثہ سے جراح کی گئی۔

سماعت کے اختتام پر ڈاکٹر عاصم حسین نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ’’اگر کسی تفتیشی افسر کو قتل کردیا گیا تو اس کا الزام بھی مجھ پر عائد کردیا جائے گا، کسی اور کا بدلہ لینے کے لیے مجھ پر جھوٹے مقدمات قائم کیے گئے ہیں‘‘۔

نیب پر تنقید کرتے ہوئے پیپلزپارٹی کے رہنماء کا کہنا تھا کہ ’’جن لوگوں نے مجھ پر جھوٹے مقدمات دائر کروائے اب وہ عدالت میں ان کو  ثابت کرنے میں ناکام ہیں، مجھے مالِ غنیمت سمجھ کر  جھوٹے مقدمات میں پھنسایا جارہا ہے‘‘۔

مزید پڑھیں : ضیا ء الدین اسپتال فلاحی ادارہ نہیں ہے، آڈٹ آفیسر کا عدالت میں انکشاف

گزشتہ سماعت کے دوران استغاثہ کی جانب سے پیش کیے گئے گواہ راحیل شاہنواز نے عدالت کو بیان ریکارڈ کروایا تھا کہ ضیاء الدین اسپتال فلاحی ادارہ نہیں بلکہ تجارتی اسپتال ہے، اسپتال کو ملنے والا فنڈ فلاحی کاموں کے لئے خرچ نہیں کیا جاتا۔

واضح رہے چھ مئی کو احتساب عدالت میں پراسیکیوٹر کی جانب سے ڈاکٹر عاصم حسین پر دورِ وازارت میں اختیارات کو استعمال کرتے ہوئے گیس اور پیٹرولیم کے ٹھیکے جاری کرنے کے حوالے چونسٹھ ارب روپے کی کرپشن کا الزام عائد کیا گیا تھا۔

فردِجرم میں مزید کہاگیا تھا کہ ڈاکٹرعاصم نے اپنے دورِ وزارت میں مصنوعی گیس کی قلت پیدا کی جس کے باعث کھاد دوسرے ملک سے درآمد کر کے مہنگے داموں فروخت کی گئی، جس سے ملکی خزانے کو چار سو باسٹھ ارب روپے کا خسارہ ہوا۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں