The news is by your side.

Advertisement

اقوام متحدہ خطاب : پاکستان کیخلاف مذموم عزائم اور کشمیر پر مظالم، وزیر اعظم نے بھارت کو خبردار کردیا

اسلام آباد/نیویارک : وزیراعظم عمران خان نے اقوام متحدہ میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بھارت نے 80 لاکھ کشمیریوں کو محصور کرکے اضافی فوج بلائی گئی، بین الااقوامی برادری لازمی طور پر کشمیر میں سنگین خلاف ورزیوں کی تحقیق کرے۔

ان خیالات کا اظہار وزیر اعظم پاکستان عمران خان نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 75ویں سیشن سے خطاب کرتے ہوئے کیا، انہوں نے جنرل اسمبلی کے اجلاس میں مسئلہ کشمیر کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ بھارتی دہشت گرد فورسز جعلی مقابلوں میں سیکڑوں بے گناہ کشمیریوں کا ماورائے عدالت قتل کرچکی ہیں۔

وزیر اعظم نے اقوام متحدہ میں مسئلہ کشمیر پر آواز بلند کرتے ہوئے کہا کہ مسئلہ کشمیر کے حل تک جنوبی ایشیا میں پائیدار امن قائم نہیں ہوسکتا، مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی بدترین پامالی کی جارہی ہے، سیکیورٹی کونسل نے گزشتہ سال 3 بار کشمیر کی صورتحال کا جائزہ لیا۔

عمران خان نے کہا کہ بھارتی حکومت کو پیغام دیتے ہوئے کہا کہ اگربھارت کی فسطائی حکومت نے پاکستان کیخلاف کوئی جارحیت کی تو قوم بھرپور جواب دے گی۔

ان کا کہنا تھا کہ 80 لاکھ کشمیریوں کو محصور کرکے اضافی فوج بلائی گئی، بین الااقوامی برادری لازمی طورپرکشمیرمیں سنگین خلاف ورزیوں کی تحقیق کرے۔،

وزیر اعظم پاکستان کا کہنا تھا کہ پاکستانی حکومت، عوام حق خودرادیت کیلئے کشمیریوں کی جائز جدوجہد کی حمایت کرتی ہے، بھارت یو این قراردادوں، کشمیریوں کی خواہش کے مطابق تنازع کے حل پر متفق ہو اور فوجی محاصرے، انسانی حقوق کی دیگر پابندیوں کو فوری ختم کرے۔

انہوں نے کہا کہ بعض ممالک کی جانب سےعالمی معاہدوں کی دھجیاں بکھیری جارہی ہیں، حق خودارادیت جیسے بنیادی اصول کو کچلا جارہا ہے۔

وزیر اعظم پاکستان کی جانب سے اقوام متحدہ کی 75 ویں سالگرہ پر مبارک باد دیتے ہوئے کہنا تھا کہ یو این کی 75 ویں سالگرہ انتہائی اہم سنگ میل ہے انہوں نے وولکن اوسکر کو جنرل اسمبلی کا 75واں صدر منتخب ہونے پر مبارکباد بھی پیش کی۔

وزیر اعظم نے کہا کہ جب سے ہماری حکومت آئی ہم نے عوام کی بہتری کےلیے کوششیں کی، 8 ارب ڈالر کا کرونا ریلیف پیکج دیا، چھوٹے کاروباری افراد کو سہولتیں دیں اور ہم نہ صرف کورونا سے نمٹنے میں کامیاب ہوئے بلکہ معیشت کو بھی استحکام دیا۔

عمران خان کا اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ تھا کہ ہم خطے میں امن و استحکام چاہتے ہیں، دنیا میں جب تک ہر شخص محفوظ نہیں تو کوئی شخص محفوظ نہیں رہ سکتا۔

ان کا کہنا تھا کہ کرونا نے دنیا ھبر میں غریب اور نادار افراد کو سخت متاظر کیا، پاکستان نے وبائی صورتحال کے دوران اسمارٹ لاک ڈاون کی پالیسی اپنائی۔

ہماری خارجہ پالیسی کا مقصد ہمسایوں کیساتھ اچھے تعلقات،مسائل کابات چیت سے حل ہے، ہم اس موقع پر امن ، استحکام اور پر امن ہمسائیگی کے مقصد کو حاصل کر سکتے ہیں۔

وزیر اعظم پاکستان کا کہنا تھا کہ غریب ممالک پر قرضوں کا بوجھ ہے،ریلیف دینے کیلئے پہلے بھی کہا تھا، ترقی پذیر ممالک کو قرضوں کی ادائیگی میں مہلت سے ریلیف ملا، پھر کہہ رہے ہیں کہ قرضوں کی ادائیگی کیلئے دسمبر تک ریلیف کو مزید بڑھایا جائے۔

انہوں نے کہا کہ امیر ممالک منی لانڈرنگ کرنے والوں کو تحفظ دیکر انسانی حقوق کی بات نہیں کرسکتے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں