The news is by your side.

Advertisement

‘فیصلہ میرے خلاف آتا تو میں شرم سے مر جاتا’

تحریک انصاف کراچی کے رہنما و رکن سندھ اسمبلی خرم شیر زمان نے کہا ہے کہ میرے جیب میں ‏موبائل غلطی سے رہ گیا تھا اگر آج فیصلہ میرے خلاف آتا تو میں شرم سے مر جاتا۔

خرم شیر زمان کے پاس موبائل فون کی موجودگی پر پی پی پی کی خواتین ارکان نے شدید احتجاج ‏کیا، خواتین ارکان کا موقف تھا کہ کسی کو فون اندر لےجانےکی اجازت نہیں ہے۔

اس موقع پر رکن سندھ اسمبلی سعید غنی نے اعتراض کیا، بعد ازاں خرم شیر زمان کی تلاشی لی ‏گئی تو ان کے پاس سے موبائل فون برآمد ہوا، اس کے علاوہ ان کے ساتھ آنے والے کریم گبول کی ‏بھی تلاشی لی گئی، تلاشی دینے کے بعد کریم بخش گبول نےاپنا ووٹ کاسٹ کیا ، کریم گبول کل ‏سندھ اسمبلی میں ہونے والے ہنگامہ آرائی کے مرکزی کردار تھے۔

خرم شیر زمان کو ووٹ ڈالنے کی اجازت مل گئی

تاہم موبائل برآمد ہونے پر خرم شیر زمان سےبیلٹ پیپر واپس لیا گیا اور انہیں پولنگ کے عمل میں ‏حصہ لینے سے روک دیا گیا، بعد ازاں الیکشن حکام نے انہیں ایوان سے باہر بھی نکال دیا۔

بعدازاں ریٹرنگ افسر نے انہیں ووٹ ڈالنے کی اجازت دے دی۔ ووٹنگ کے بعد میڈیا سے گفتگو ‏کرتے ہوئے خرم شیر زمان نے کہا کہ میرے جیب میں موبائل غلطی سے رہ گیا تھا اگر آج فیصلہ ‏میرے خلاف آتا تو میں شرم سے مر جاتا، موبائل جیب میں تھا مگر کسی کی تصویر بنانےکیلئے ‏نہیں۔

انہوں نے کہا کہ ہمارےساتھ جی ڈی اے، ایم کیوا یم سمیت سب نےووٹ کاسٹ کیے ، کریم ‏بخش گبول سندھ اسمبلی میں آیا اس کو اغواکیاگیا کل ثابت ہوگیا، کریم گبول نے کہا مجھے اغوا ‏کرنے کی کوشش کی گئی۔

خرم شیر زمان کا کہنا تھا کہ ہمارے ایک نہیں تین ووٹر اغوا ہوئے تھے، باقی ووٹرز کو کس بنیاد پر ‏بلیک میل کیا گیا ،تحقیقات کرائی جائیں، سنا ہے ایک رکن کو 5کروڑ کی آفردی گئی جب کہ ایک ‏کو حلقے کےلئے ترقیاتی فنڈز دینے کی بھی آفر کی گئی۔

Comments

یہ بھی پڑھیں