اترپردیش : دریائے گنگا پر افطار پارٹی مہنگی پڑ گئی، چکن بریانی کھانے کے الزام میں 14 مسلمان نوجوانوں کو گرفتار کرلیا گیا۔
تفصیلات کے مطابق بھارتی ریاست اترپردیش کے شہر بنارس میں انسانی حقوق اور مذہبی آزادی کی پامالی کا ایک اور واقعہ سامنے آیا ہے، جہاں دریائے گنگا میں کشتی پر افطار کرنے والے 14 مسلمان نوجوانوں کو گرفتار کر کے جیل بھیج دیا گیا ہے۔
ان نوجوانوں پر الزام ہے کہ انہوں نے "مقدس دریا” پر افطار کے دوران چکن بریانی (گوشت) کا استعمال کیا۔
یہ واقعہ 16 مارچ کو اس وقت پیش آیا جب نوجوانوں نے کشتی پر افطار کی ایک ویڈیو سوشل میڈیا پر پوسٹ کی۔
بھارتی حکمران جماعت (بی جے پی) کے مقامی رہنما رجت جیسوال نے اس ویڈیو پر اعتراض کرتے ہوئے پولیس کو شکایت درج کروائی۔
شکایت میں موقف اختیار کیا گیا کہ دریا پر گوشت کا استعمال مذہبی جذبات کو ٹھیس پہنچانے کے مترادف ہے۔
پولیس نے بی جے پی رہنما کی مدعیت میں فوری کارروائی کرتے ہوئے تمام 14 نوجوانوں کو حراست میں لے کر جیل منتقل کر دیا ہے۔
انسانی حقوق کی تنظیموں اور سوشل میڈیا صارفین نے اس گرفتاری کو مسلمانوں کے خلاف امتیازی سلوک قرار دیتے ہوئے سخت تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں


