The news is by your side.

Advertisement

سندھ میں ایسا وزیرِ اعلیٰ ہونا چاہیے جس کے خلاف انکوائری نہ ہو: افتخار درانی

اسلام آباد: وزیرِ اعظم کے معاونِ خصوصی افتخار درانی نے کہا ہے کہ سندھ میں ایسا وزیرِ اعلیٰ ہونا چاہیے جس کے خلاف انکوائری نہ ہو۔

میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے افتخار درانی نے کہا کہ وزیرِ اعلیٰ سندھ پر کرپشن کے الزامات ہیں، بہ طور صوبائی وزیرِ خزانہ مراد علی شاہ نے اومنی گروپ کو سپورٹ کیا تھا۔

جے آئی ٹی رپورٹ میں وزیرِ اعلیٰ سندھ کے خلاف سہولت کاری کے شواہد ہیں۔

معاون خصوصی

معاونِ خصوصی افتخار درانی کا کہنا تھا کہ جے آئی ٹی رپورٹ میں بڑے انکشافات سامنے آئے ہیں، سندھ کی قیادت کے اومنی گروپ کے ساتھ تعلقات کا انکشاف ہو گیا ہے۔

انھوں نے کہا ’جے آئی ٹی رپورٹ میں وزیرِ اعلیٰ سندھ پر سہولت کاری کے شواہد ہیں، وزیرِ اعلیٰ سندھ نے بہ طور وزیرِ خزانہ سہولت کار کا کردار کیسے ادا کیا؟ حالات کے پیشِ نظر سندھ میں قیادت کی تبدیلی نا گزیر ہو چکی ہے۔‘

افتخار درانی نے مزید کہا ’سندھ میں ایسا وزیرِ اعلیٰ ہونا چاہیے جو زیرِ تفتیش نہ ہو، پیپلز پارٹی کو خود سوچنا چاہیے کہ حکومت کیسے چلانی ہے، جمہوریت کا اپنا ایک عمل ہے اور احتساب اس کا حصہ ہے، احتساب کا عمل جمہوریت کو مضبوط کرتا ہے۔‘


یہ بھی پڑھیں:  تحریک انصاف نے وزیر اعلیٰ سندھ سے استعفیٰ مانگ لیا


معاونِ خصوصی برائے وزیرِ اعظم نے کہا کہ پیسا جمع کرائے بغیر بینک کیسے بنا دیا گیا، یہ بتایا جائے کہ نیشنل بینک سے کیسے پیسے لیے گئے، ان سہولتوں کے لیے حکومتِ سندھ کو کیسے استعمال کیا گیا۔

افتخار درانی نے کہا ’ان تمام چیزوں کا جواب رپورٹ کی روشنی میں سپریم کورٹ میں دینا ہوگا، سپریم کورٹ کا جے آئی ٹی سے متعلق فیصلہ سب کو قبول کرنا ہوگا۔‘

خیال رہے کہ جعلی اکاؤنٹس کے ذریعے میگا منی لانڈرنگ کیس کی جے آئی ٹی میں وزیرِ اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کا نام بھی سامنے آیا ہے۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں