The news is by your side.

Advertisement

افتخار واحد: گھر کے واحد کفیل نے فرض پر جان نچاور کردی

کراچی : اسٹاک ایکسچینج حملے میں جام شہادت نوش کرنے والے افتخار واحد دو روز بعد ریٹائرڈ ہونے والے تھے لیکن اس سے قبل دہشت گردوں کو مقابلہ کرتے ہوئے شہید ہوگئے۔

تفصیلات کے مطابق گزشتہ دس برس سے پاکستان اسٹاک ایکسچینج کی عمارت میں سیکیورٹی گارڈ کی نوکری کرنے والے افتخار واحد دہشت گردوں کےلیے سیسہ پلائی ہوئی دیوار ثابت ہوئے اور حملہ آواروں سے مقابلہ کرتے ہوئے اپنے فرض پرجان قربان کردی۔

افتخار واحدکی ریٹائرمنٹ میں دو روز باقی تھے لیکن فرض شناسی کے جذبے انہیں شہادت کی منزل تک پہنچا دیا۔

پیر کی صبح چار مسلح دہشت گردوں نے اسٹاک ایکسچینج کی عمارت پر حملہ کیا تو انہیں داخلی دروازے پرموجود چوکی میں تعینات افتخار واحد کا سامنا کرنا پڑا، جنہوں نے جواں مردی سے دہشت گردوں پر جوابی فائرنگ کی۔

دہشت گردوں کا حملہ کس قدر شدید تھا اس کا واضح ثبوت بیریئر اور چوکی پر موجود متعدد گولیوں کے نشان ہیں، داخلی بیریئر پر ہونے والے مقابلے میں دو دہشت گرد ہلاک اور دو سیکیورٹی اہلکار شہید ہوئے۔

18 ہزار تنخواہ پر نوکری کرنے والے افتخار واحد نے اپنے پسماندگان میں دو بیٹے اور دو بیٹیاں چھوڑی ہیں، افتخار واحد کی شہادت کے بعد ان کے بیٹے نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ صبح میں نے فائرنگ کی آواز سنی تھی پھر کسی نے بتایا کہ اسٹاک ایکسچنیج پر حملہ ہوا ہے۔

میں وہاں پہنچا تو پتہ چلا کے والد صاحب بھی زخمی ہوئے ہیں جنہیں سول اسپتال منتقل کیا ہے، اسپتال پہنچا تو معلوم ہوا کہ والد صاحب شہید ہوچکے ہیں۔

افتخار واحد کے بیٹے عزاج واحد نے بتایا کہ میں سب سے بڑا بیٹا ہوں لیکن معذوری کے باعث ملازمت کرنے سے قاصر ہوں اور دیگر بہن بھائی ابھی چھوٹے ہیں اور  والد صاحب ہی گھر کے واحد کفیل تھے۔

عزاج نے والد صاحب کی ریٹائرمنٹ سے متعلق بتایا کہ ان کی کمپنی نے 55 سے 60 سال کے ملازمین کو ریٹائر کرنے کا لیٹر جاری کیا تھا جس کے مطابق یکم جولائی  کو والد کی مدت ملازمت مکمل ہونی تھی لیکن اس سے قبل ہی انہوں نے وطن پر اپنی جان قربان کردی۔

عزاج نے چھلکتی آنکھوں کے ساتھ بتایا کہ صبح جب والد صاحب ڈیوٹی کےلیے روانہ ہوئے تو ہم سورہے تھے اسی لیے والد کا دیدار نہ کرسکےلیکن جب تین بجے ایمبولینس ہماری گلی میں آئی تو والد کے آخری دیدار نے ہماری دنیا یکسر تبدیل کردی۔

fb-share-icon0
Tweet 20

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں