The news is by your side.

Advertisement

جوابی کارروائی میں 50 افغان فوجی ہلاک اور 100 سے زائد زخمی ہوئے، آئی جی ایف سی

چمن : آئی جی ایف سی میجر جنرل ندیم احمد نے کہا کہ افغان فورسز نے مردم شماری میں رخنہ ڈالنے کی کوشش کی اور پاکستانی گھروں میں قبضے کی کوشش کی جنہیں خالی کرالیے گئے جس کے دوران افغانی فورسز کو بھاری نقصان اُٹھانا پرا۔

وہ کوئٹہ میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے صحافیوں کو بتایا کہ 4 مئی کو فرنٹیئر کور اور پاک آرمی نے آپریشن شروع کیا کہ اور اگلے ہی روز علاقے کو خالی کروالیا جس کے دوران افغان فورس کے 50 سپاہی ہلاک ہوئے اور 100 سے زائد زخمی ہوئے جب کہ 5 افغان پوسٹوں کو تباہ کردیا گیا۔

انہوں نے کہا کہ ہم نے برے وقت میں افغانستان کا ساتھ دیا ہے اور افغان فورسز کے جانی نقصان پر ہمیں دکھ بھی ہے لیکن پاکستان کی سالمیت اور پاک سرزمین کے ایک ایک انچ کی حفاظت ہماری اولین ترجیح ہے اسی طرح سرحدی علاقوں میں کسی بھی قسم کی خلاف ورزی ناقابل قبول ہے۔


افغان فورسز کو اشتعال انگیزی پر بھرپور جواب دیا ، کمانڈر سدرن کمانڈ


میجر جنرل ندیم احمد نے کہا کہ مردم شماری کے آغاز سے قبل ہی افغان فورسز کو آگاہ کردیا گیا تھا اور ان کی جانب سے تاخیر کو بھی برداشت کر کے دو دن بعد مردم شماری کا آغاز کیا اس کے باوجود مردم شماری کے کام میں رخنہ ڈالنے اور شہری آبادی پر فائرنگ کر کے 10 افراد کی شہادت کے بعد آپریشن کا فیصلہ کیا تاہم اس کے باوجود بھاری پہتھیار استعما نہیں کیے کہ مبادا دونوں اطراف کی شہری آبادیوں کو نقصان نہ پہنچے۔

ڈی ایف سی نے بتایا کہ افغان حکومت کی درخواست پر 5 مئی کو فائر بندی کی تاہم افغان حکومت پر واضح کردیا ہے کہ سرحد پر کسی قسم کی کوئی خلاف ورزی برداشت نہیں کی جا سکے گی آئندہ بھی کوئی کوشش کی گئی تو بھرپور جواب دیں گے۔


چمن : افغان فورسز کی گولہ باری و فائرنگ،10 شہری شہید، 45زخمی


چمن کی تازہ ترین صورت حال بتاتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ اور چمن میں امدادی سامان اور خوراک وغیرہ کی ترسیل جاری ہے جب کہ چمن میں معمول کی آمد و رفت کا سلسلہ بھی جاری ہے شہید ہونے والے مقامی افراد کی آخری رسومات ادا کردی گئی ہیں جب کہ زخمیوں کو مقامی اسپتال میں طبی امداد دی اج رہی ہے اور ٹوٹ پھوٹ کے شکار گھروں کی تعمیر کا کاما بھی شروع ہو چکا ہے۔

میجر جنرل ندیم احمد نے کہا کہ چمن واقعہ سے کابل اور دہلی کا گٹھ جوڑ واضح ہو چکا ہے اور افغان حکام کو مثبت مشورے نہیں دیے جا رہے ہیں جس کا سراسر نقصان افغان فورس اور عوام کو ہورہا ہے جسے افغان حکومت کو سمجھنے کی ضرورت ہے اور مجھے امید ہے کہ کابل اور قندھار میں بیٹھے حکام نیچلی سطح تک احکامات اور ان کے رد عمل کو دیکھیں گے اور درست حکمت عملی اپنائیں گے۔

Print Friendly, PDF & Email

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں