The news is by your side.

Advertisement

نئے پولیس ایکٹ میں عوام کے تمام مسائل کا حل موجود ہوگا‘ آئی جی خیبر پختونخواہ

ڈی آئی خان: آئی جی پولیس خیبرپختونخواہ صلاح الدین خان محسوس نے جلد ہی پولیس ایکٹ 2017 نافذ کرنے کا اعلان کردیا ہے‘ ان کا کہنا ہے کہ نئے ایکٹ سے سیکیورٹی کی صورتحال بہتر کرنے میں مدد ملے گی۔

تفصیلات کے مطابق انسپکٹر جنرل پولیس خیبر پختونخوا صلاح الدین خان محسود نے کہا کہ خیبر پختونخوا میں عوام کے تحفظ ،امن وامان کے قیام اور دہشت گردی کے خاتمے کے لئے پولیس میں اصلاح کا عمل تیزی سے جاری ہے ۔اس سلسلے میں صوبائی حکومت کی جانب سے پولیس ایکٹ 2017 منظور کرلیاہے ۔انتظامی امور پر کام اگلے دوماہ میں متوقع ہے ۔

ڈیرہ اسماعیل خان میں میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے انسپکٹر جنرل پولیس خیبر پختونخوا صلاح الدین خان محسود نے کہا کہ پولیس ایکٹ میں عوام کے تمام مسائل کا حل موجود ہوگا۔ پولیس کی مجرمانہ غفلت اور کوتاہی پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا ۔عوام کے تحفظ ،امن وامان اور دہشت گردی میں کمی نہ لائی گئی تو افسران کے خلاف کاروائی ہوگی ۔

انہوں نے کہاکہ سی پیک منصوبے کی سیکورٹی کے لیے سات سو ملین روپیہ کی منظوری ہو چکی ہے جس سے جدید اسلحہ اور نئی گاڑیاں بھی خریدی جائیں گی۔ سی پیک منصوبے کی سیکورٹی کے لیے 4200 نفوس پر مشتمل نفری سٹینڈ بائی ہے جبکہ3000 نفری کی نئی فورس بھی بھرتی کی جائے گی جبکہ پشاور میں سی پیک سیل بھی کھولا گیا ہے ۔

ایک سوال کے جواب میں آئی جی پولیس نے بتایا کہ گھروں میں سرچ آپریشن کے دوران لائسنس یافتہ اسلحہ پولیس اٹھا کر نہیں لے جا سکتی یہ غیر قانونی ہے ماسوائے جرائم پیشہ افراد کے ۔

ان کا مزید کہناتھا کہ پولیس کو مضبوط بنانے ،جرائم میں خاتمے اور دہشت گردی کے خلاف انہیں ہمہ وقت تیار رکھنے کی غرض سے جنوبی اضلاع پر میں پولیس ٹرینگ سکو ل کا نظام قائم کیاجارہاہے جس کے لئے ڈیرہ اسماعیل خان میں پولیس ٹرینگ سکول منظور ہوچکا ہے۔مختلف تھانوں اور چوکیوں پر بہتر بنانے کے لئے کام کیا جارہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں خیبر پختونخوا پولیس ،عسکری وسول ادارے مکمل ہم آہنگی سے کام کررہے ہیں جس کے نتیجے میں گزشتہ دوسال کے دوران 13 سو سے زائد دہشت گردوں کو گرفتار کرکے عدالت تک پہنچایا ہے ۔آج 75 فیصد سے زائد دہشت گردی کم ہوچکی ہے لیکن اس کے باوجود دہشت گردی کے خدشات ہمیشہ موجود رہیں گے جس کے لئے ہم اپناکام ،انتظام اور تیاری ہمیشہ جاری رکھے ہیں یہی وجہ ہے کہ گزشتہ چھ ماہ کے دوران کوئی بڑا سانحہ رونما نہیں ہوا ۔ عام حالات میں بھی ہماری فورسز کی کاروائیاں جاری رہتی ہیں جس میں آنے والے خدشات ان پر غورو غوص اور تیاری ہوتی رہتی ہے جس کی وجہ سے خیبر پختونخوا میں پاڑہ چنار اور کوئٹہ کے بعد چوتھا بڑا حادثہ متوقع تھا جس جو بروقت کاروائی سے بچا لیاگیا ۔

ان کا کہناتھا کہ ڈرائیونگ لائسنس کے چوتھا ٹھیکہ منظور ہوچکا ہے تمام قانونی تقاضے پورے ہونے کے بعد سائلین دس روز بعد ہی اپنے لائسنس وصول کرسکیں گے ۔


اگرآپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اوراگرآپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی فیس بک وال پرشیئرکریں۔

Print Friendly, PDF & Email

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں