The news is by your side.

Advertisement

مشال کے خلاف توہین رسالت کا کوئی ثبوت نہیں ملا، آئی جی

پشاور: انسپکٹر جنرل خیبر پختونخوا نے کہا ہے کہ مشعال خان قتل کیس میں 6 یونیورسٹی ملازمین سمیت 22 افراد کو گرفتار کرلیا۔ مشعال کے خلاف توہین رسالت سے متعلق کوئی شواہد نہیں ملے، شواہد جمع کرنے کے لیے ایف آئی اے سے مدد مانگی ہے۔

تفصیلات کے مطابق آئی جی خیبر پختونخوا صلاح الدین محسود نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے بتایا کہ مشعال قتل کیس میں گرفتار ملزمان میں واقعے کے اہم کردار موجود ہیں، سائنسی خطوط پر کیس کی تفتیش کر رہے ہیں۔

مزید پڑھیں: روشن مستقبل کو بے رحمی سے قتل کیا گیا، اہل خانہ

آئی جی کا کہنا تھا کہ تفتیش کے دوران 11 مزید ملزمان کی نشاندہی ہوئی جن کی گرفتاری کے لیے چھاپے مارے جارہے ہیں۔ فوٹیج میں شناخت ہونے والے ملزمان کا نام ایف آئی آر میں درج ہوگا۔

صلاح الدین محسود نے کہا کہ تصاویر میں نظر آنے والے ڈی ایس پی نے جان خطرے میں ڈال کر لاش وہاں سے نکالی، وہ لاش گاڑی میں رکھ  کر لارہا تھا کہ پورا ہجوم اس کے پیچھے پیچھے تھا۔

دوسری جانب مشعال خان قتل کیس کے گرفتار 11 ملزمان کو انسداد دہشت گردی عدالت نے 2 روزہ جسمانی ریمانڈ پر پولیس کے حوالے کردیا۔ 8 ملزمان پہلے ہی 4 روزہ ریمانڈ پر پولیس کی حراست میں ہیں۔

‘مشعال خان بے گناہ’ 

دوسری جانب خیبر پختونخواہ کے شہر بنوں میں شہریوں کی بڑی تعداد نے پریس کلب کے باہر جمع ہو کر مشعال خان کے قتل کے خلاف احتجاج کیا اور قاتلوں کو سزا دینے کا مطالبہ کیا۔

احتجاج میں سیاسی و سماجی تنظیموں کے ارکان، طلبا اور عام شہری بڑی تعداد میں شریک ہوئے۔ مظاہرین کا کہنا تھا کہ اسلام امن کا دین ہے۔ واقعے میں ملوث افراد کو سزا دی جائے۔

اس سے قبل گزشتہ روز مشعال کے سوئم کے موقع پر بھی مردان میں لوگوں کی بڑی تعداد سڑکوں پر احتجاج کرتے ہوئے مشعال کی قبر پر پہنچی اور اس پر پھول نچھاور کیے۔

احتجاج کے دوران لوگ ’مشعال خان بے گناہ، مشعال خان مظلوم‘ کے نعرے بھی لگاتے رہے۔

یاد رہے کہ 13 اپریل کو صوبہ خیبر پختونخواہ کے شہر مردان کی عبدالولی یونیورسٹی میں ایک مشتعل ہجوم نے طالب علم مشعال خان کو بہیمانہ تشدد کا نشانہ بنا کر اسے موت کے گھاٹ اتار دیا تھا۔

مزید پڑھیں: توہین مذہب کا الزام عائد کرنے والوں کو تعلیم کی ضرورت ہے، امام کعبہ

سپریم کورٹ کے چیف جسٹس، جسٹس میاں ثاقب نثار نے بھی مشعال خان کے بہیمانہ قتل کا از خود نوٹس لیتے ہوئے آئی جی خیبر پختونخواہ کو 36 گھنٹے میں تفصیلی رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کی تھی۔

سفاکانہ واقعے پر وزیر اعظم نواز شریف نے بھی گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا تھا۔

Print Friendly, PDF & Email

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں