The news is by your side.

Advertisement

آئی جی سندھ اربوں کی جائیداد کے مالک کیسے بنے؟ تحقیقات کا فیصلہ

کراچی: رخصت پر جانے والے آئی جی سندھ پولیس اے ڈی خواجہ اربوں روپے کی جائیداد کے مالک کیسے بنے؟ سندھ حکومت نے اس ضمن میں تحقیقات کرنے کا فیصلہ کرلیا۔


تفصیلات کے مطابق آئی جی سندھ پولیس اے ڈی خواجہ کراچی سمیت اندرون سندھ اربوں روپے کی جائیداد کے مالک ہیں، ان کی 800 ایکڑ زمین ہے جب کہ وہ کئی پٹرول پمپس کے مالک بھی ہیں،وہ اربوں کی جائیداد کے مالک کیسے بنے؟ اس حوالے سے سندھ حکومت نے تحقیقات کرنے کا فیصلہ کرلیا ہے۔


اسی سے متعلق: سندھ پولیس میں بڑی تبدیلی متوقع، آئی جی سندھ رخصت پر روانہ


ذرائع کے مطابق سندھ حکومت تحقیقات کے لیے متعلقہ اداروں کو خط ارسال کرے گی جس میں معلومات حاصل کی جائیں گی کہ آئی جی سندھ کے پاس اتنی دولت کہاں سے آئی کہ انہوں ںے یہ اثاثے بنالیے؟ آیا یہ اثاثے ان کی ملکیت ہیں کیا کسی اور کی؟ اگر ان کی ملکیت ہیں تو یہ اثاثے ان کے آئی جی سندھ بننے سے قبل کے ہیں یا عہدے سنبھالنے کے بعد انہوں نے ایہ اثاثے بنائے، اگر بنائے تو کیسے؟ اس کے لیے سرمایہ کہاں سے آیا؟ اس کے ذرائع کیا تھے؟ اگر یہ سب درست ہے تو کیا ٹیکس ادا کیا گیا؟

اطلاعات ہیں کہ اے ڈی خواجہ کئی پٹرول پمپس کے مالک ہیں،اے ڈی خواجہ کے ٹنڈو محمد خان، ماتلی، حیدر آباد، ٹنڈوالہٰ یار میں پٹرول پمپس ہیں،ان کے سیہون اور جناح ٹرمینل کراچی کے قریب بھی پٹرول پمپس ہیں، ٹنڈو غلام حیدر میں 8 سو ایکڑ سے زائد زمین آئی جی سندھ کی ملکیت ہے۔

مزید اطلاعات ہیں کہ اے ڈی خواجہ ٹھٹھہ اور میرپور خاص میں بھی زرعی زمین کے مالک ہیں، بدین میں دو فلور ملز بھی ہیں۔

Print Friendly, PDF & Email

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں