site
stats
پاکستان

آئی جی سندھ نے اعلیٰ پولیس افسران کا کچا چھٹا کھول دیا

کراچی: آئی جی سندھ اے ڈی خواجہ نے کرپٹ پولیس افسران کا کچا چٹھا سپریم کورٹ میں جمع کرادیا جس کے مطابق اعلیٰ پولیس افسران کرمنل ریکارڈکےحامل، کرپشن اور غبن میں ملوث ہیں۔

اے ڈی خواجہ کی جانب سے سپریم کورٹ میں جمع کرائی جانے والی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ سابق آئی جی سندھ غلام حیدر جمالی محکمہ پولیس میں غیر قانونی بھرتیوں میں ملوث رہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ڈی ایس پی ریاض بھٹو پلاٹوں پر قبضے جبکہ سابق ڈی آئی جی سکھر کپیٹن فیروز شاہ ایرانی آئل کی اسمگلنگ کے غیر قانونی کاموں میں ملوث ہیں۔

آئی جی سندھ کی جانب سے سپریم کورٹ میں پیش کردہ روپورٹ میں یہ بھی انکشاف کیا گیا ہے کہ سابق ایڈیشنل آئی جی اعتزاز احمد گواریا بھی غیر قانونی بھرتیوں میں ملوث رہے جبکہ ڈی ایس پی چوہدری لیاقت پر خطرناک ملزمان کی پشت پناہی کا الزام ہے۔

اے ڈی خواجہ کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ڈی ایس پی فرحان علی بروہی پر خطرناک ملزمان سے رشوت لینے جبکہ ڈی ایس پی نیئر الحق غیر اخلاقی دھندوں سے کمائی میں ملوث رہے۔

آئی جی سندھ کی جانب سے پیش کی جانے والی رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ سابق ایڈیشنل آئی جی ٹریفک خادم حسین پر ماتحت عملے سے رشوت لینے کا الزام ہے جبکہ خاتون ڈی ایس پی نے ناز پروین نے جعلی تعلیمی اسناد پیش کر کے نوکری حاصل کی۔

اے ڈی خواجہ نے اپنی رپورٹ میں انکشاف کیا ہے کہ ڈی ایس پی مرزا تیمور بیگ نشے میں دھت رہتے ہیں۔

 

Print Friendly, PDF & Email
20

Comments

comments

اس ویب سائیٹ پر موجود تمام تحریری مواد کے جملہ حقوق@2018 اے آروائی نیوز کے نام محفوظ ہیں

To Top