The news is by your side.

Advertisement

العزیزیہ ریفرنس: سزا کے خلاف اپیل جلد مقررکرنے کی درخواست منظور

اسلام آباد : اسلام آبادہائی کورٹ نے نواز شریف کی العزیزیہ ریفرنس میں سزا کے خلاف اپیل جلد مقرر کرنے کی درخواست منظور کرلی اور اپیل دس روزمیں سماعت کے لئے مقررکرنےکا حکم دے دیا۔

تفصیلات کے مطابق اسلام آباد ہائی کورٹ میں جسٹس عامرفاروق اورجسٹس محسن اختر پر مشتمل ڈویژن بینچ نے نوازشریف کی  العزیزیہ ریفرنس میں سزا کے خلاف  دائراپیل کی جلد سماعت کے لئے متفرق درخواست پر سماعت کی ، معاون وکیل نے کہا خواجہ حارث 5 منٹ تک عدالت میں پیش ہوں گے، جس پر عدالت نے کہا جلد سماعت کی درخواست ہے تاریخ مقرر کرلیتے ہیں۔

معاون وکیل نے استدعا کی خواجہ حارث کوپیش ہونےکاموقع دیں، تو عدالت نے کہا ٹھیک ہے پھر تمام کیسز کے بعد نواز شریف کی درخواست سن لیتے ہیں اور سماعت میں کچھ دیر کے لئے وقفہ کردیا۔

بعد ازاں نوازشریف کی جانب سےخواجہ حارث ایڈووکیٹ عدالت میں پیش ہوئے اور کہا نوازشریف کی رٹ پٹیشن نمبر32 بھی زیرسماعت ہے۔

اسلام آبادہائی کورٹ نے نوازشریف کی سزا کےخلاف اپیل دس روز میں مقرر کرنے کا حکم دے دیا اور مجرم نوازشریف کی اپیل جلد سماعت کے لئے مقررکرنے کی درخواست منظور  کرتے ہوئے  مزید کارروائی دس دن کےلئےملتوی کردی۔

مزید پڑھیں سزامعطلی اورضمانت کی درخواست اپیل کیساتھ سنی جائےگی

یاد رہے نوازشریف کی جانب سےخواجہ حارث نے اپیل کی جلد سماعت کے لیے نئی درخواست دائر کی تھی ، جس میں مؤقف اختیار کیا گیا تھا کہ شفاف ٹرائل ہر پاکستان کا حق ہے ، احتساب عدالت کے حکم نامے کو ہائی کورٹ کالعدم قرار دے۔

درخواست میں احتساب عدالت کے 24 دسمبر کے فیصلے کو چیلنج کیاگیا اور کہا گیا احتساب عدالت میں ہمارے موقف کو مکمل طور پر نہیں سناگیا۔

گذشتہ روز اسلام آباد ہائی کورٹ نے مجرم نواز شریف کی سزا معطلی کی درخواست پر مختصرحکم نامہ جاری کیا تھا ، جس میں کہا گیا تھا نواز شریف کی اپیل ابھی تک سماعت کے لئے مقرر نہیں ہوئی ہے۔ نواز شریف کی اپیل پر ابتدائی سماعت سے پہلے سزا معطلی اور ضمانت کی درخواست پر سماعت نہیں ہو سکتی۔ نواز شریف کی سزا معطلی اور ضمانت کی درخواست اپیل کے ساتھ سنی جائے گی۔

واضح رہے گزشتہ برس 24 دسمبر کو سابق وزیر اعظم نواز شریف کے خلاف العزیزیہ اسٹیل ملز اور فلیگ شپ ریفرنسز کا فیصلہ سنایا گیا تھا، فیصلے میں نواز شریف کو العزیزیہ ریفرنس میں مجرم قرار دیتے ہوئے گرفتار کیا گیا جبکہ فلیگ شپ ریفرنس میں انہیں بری کردیا گیا تھا، بعدازاں ان کی درخواست پر انہیں راولپنڈی کی اڈیالہ جیل کے بجائے لاہور کی کوٹ لکھپت جیل منتقل کیا گیا تھا۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں