The news is by your side.

Advertisement

العزیزیہ ریفرنس ، نوازشریف کی سزامعطلی،ضمانت کی درخواست پرسماعت ملتوی

اسلام آباد : اسلام آبادہائی کورٹ میں نوازشریف کی العزیزیہ ریفرنس میں سزامعطلی اور ضمانت کی درخواست پرسماعت ملتوی کردی گئی ،  عدالت نے کہا جب تک اپیل مقررنہ ہواس وقت تک رٹ پٹیشن پرسماعت نہیں ہوسکتی، مناسب حکم جاری کریں گے۔

تفصیلات کے مطابق اسلام آباد ہائی کورٹ میں نواز شریف کی العزیزیہ ریفرنس کےفیصلےکیخلاف دائر کردہ درخواستوں پر ابتدائی سماعت چیف جسٹس اطہرمن اللہ اورجسٹس عامرفاروق نے کی۔

سابق وزیراعظم کےوکیل خواجہ حارث عدالت  عدالت میں پیش ہوئے، خواجہ حارث نے کہا کیس کافیصلہ ہونےتک نوازشریف کوضمانت دی جائے، جس پر عدالت نے کا کہنا تھا کہ   اپیل جب تک مقررنہ ہواس وقت تک رٹ پٹیشن پرسماعت نہیں ہوسکتی۔

خواجہ حارث نے بتایا کہ  اپیل پرنمبرالاٹ ہوگیاہے، رٹ پٹیشن کی سماعت کےلئےتاریخ مقررکردیں، عدالت نےوازشریف کی رٹ پٹیشن پرسماعت ملتوی کرتے ہوئے کہاکچھ ہی دیرمیں مناسب حکم جاری کریں گے۔

سینیٹرمصدق ملک،مریم اورنگزیب اور محمدزبیرسمیت بڑی تعداد میں لیگی رہنما عدالت میں موجودہیں۔

نوازشریف نےاپیل میں استدعا کی تھی کہ سزا کے خلاف اپیل کا فیصلہ ہونے تک سزامعطل کر کے ضمانت دی جائے۔

یاد رہے 5 جنوری کو اسلام آباد ہائی کورٹ میں سزامعطلی کے لئے نوازشریف کی رٹ پٹیشن پررجسٹرارآفس کے اعتراضات ختم کرکے کلیئرقراردیتے ہوئے 32 نمبرالاٹ کیا گیا تھا اور چیف جسٹس اسلام آبادہائی کورٹ نے نواز شریف کی سزامعطلی کی درخواست سماعت کے لئے مقرر کرلے دو رکنی بینچ تشکیل دیا تھا۔

واضح رہے گزشتہ برس 24 دسمبر کو سابق وزیر اعظم نواز شریف کے خلاف العزیزیہ اسٹیل ملز اور فلیگ شپ ریفرنسز کا فیصلہ سنایا گیا تھا۔

فیصلے میں نواز شریف کو العزیزیہ ریفرنس میں مجرم قرار دیتے ہوئے گرفتار کیا گیا جبکہ فلیگ شپ ریفرنس میں انہیں بری کردیا گیا تھا، بعدازاں ان کی درخواست پر انہیں راولپنڈی کی اڈیالہ جیل کے بجائے لاہور کی کوٹ لکھپت جیل منتقل کیا گیا تھا۔

مزید پڑھیں : العزیزیہ ریفرنس: نوازشریف کو سات سال قید کی سزا

بعد ازاں سابق وزیر اعظم نواز شریف نے العزیریہ ریفرنس میں اپنی سزا معطلی کے لیے اسلام آباد ہائیکورٹ میں درخواست دائر کرتے ہوئے ضمانت کی استدعا کی تھی۔

درخواست کے متن میں کہا گیا تھا کہ احتساب عدالت میں ہمارا مؤقف نہیں سنا گیا، احتساب عدالت کے حکم نامے کو کالعدم قرار دیا جائے۔ نواز شریف کے وکلا کے مطابق نواز شریف نے عدالت کی کارروائی میں پوری مدد کی، تاہم عدالت میں ہمارا مؤقف ٹھیک سے نہیں سنا گیا۔

بعد ازاں ہائی کورٹ نے نواز شریف کی سزا معطلی کی درخواست اعتراض لگا کر واپس کردی تھی اور ہائی کورٹ کے رجسٹرار نے نواز شریف کی درخواست کو نامکمل قرار دیتے ہوئے اعتراضات دور کرکے رجسٹرار آفس میں جمع کروانے کی ہدایت کی تھی۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں