The news is by your side.

Advertisement

جھوٹ بولنےوالا مجرم ہے، اسلام آباد ہائیکورٹ کا فیصلہ

اسلام آباد : اسلام آباد ہائیکورٹ نے الیکشن ایکٹ 2017 میں ختم نبوت سے متعلق شقوں میں تبدیلی کے فیصلے میں کہا ہے کہ ختم نبوت کا معاملہ حساس ہے، جھوٹ بولنے والا مجرم ہے، راجا ظفر الحق کمیٹی رپورٹ مفصل اور جامع ہے، حکومت پاکستان مذہب کے حوالے سے ریکارڈ پورا کرے۔

تفصیلات کے مطابق اسلام آباد ہائیکورٹ میں جسٹس شوکت عزیز صدیقی نےالیکشن ایکٹ دوہزارسترہ میں ختم نبوت سے متعلق کیس کی سماعت کی، ختم نبوت سے متعلق شقوں پر حکم امتناع کے حوالے فیصلہ اوپن کورٹ میں سنایا۔

فیصلے میں کہا گیا ہے کہ آئین نے حقوق اور مذہب کی آزادی دی ہوئی ہے اور جھوٹ بولنے والا مجرم ہے، ختم نبوت کا معاملہ حساس ہے،پارلیمنٹ نے ختم نبوت سے متعلق اہم کام کیا۔

فیصلے میں کہا گیا ہے کہ آئین کے مطابق نادرا مذہب کے حوالے سے بیان حلفی لے، حکومت کے پاس ملازمین کا مذہب سے متعلق ریکارڈنہیں، حکومت مذہب کےحوالےسےریکارڈ پوراکرے، اسکول اور کالجز میں استاد کا مسلم ہونا لازمی ہے۔

کیس کے فیصلے کے مطابق قادیانیوں کے حوالے سے رپورٹ خوفناک ہے، ختم نبوت سے متعلق سینیٹ اور قومی اسمبلی کے اجلاس کی کارروائی بھی عدالت میں پیش کی تھیں، راجا ظفر الحق کمیٹی رپورٹ بھی ختم نبوت کیس کا حصہ بنا لیا گیا ہے۔

کیس کا تفصیلی فیصلہ بعد میں جاری کیا جائے گا

یاد رہے گذشتہ سماعت میں قادیانی کمیونٹی کا 1981 اور 1998 کی مردم شماری جبکہ 2017 کی مردم شماری کا عارضی ریکارڈ بھی جمع کرایا گیا اور مذہب تبدیل کر کے بیرون ملک سفر کرنے والے چھ ہزارسے زائد پاکستانیوں کی ٹریول ہسٹری عدالت میں پیش کی گئی تھی۔

جسٹس شوکت عزیز صدیقی کا کہنا تھا کہ ہم نہ کسی کے خلاف ہیں نہ اقلیتوں کے حقوق سلب کررہے ہیں، شناخت ظاہر نہ کرنا ریاست کے ساتھ دھوکہ ہے۔

بعد ازاں جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے 7 مارچ کو فیصلہ محفوظ کیا تھا۔


خبر کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کمنٹس میں کریں‘مذکورہ معلومات کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہچانے کے لیے سوشل میڈیا پر شیئر کریں۔

Print Friendly, PDF & Email

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں