The news is by your side.

Advertisement

ہتک عزت کے زیرِ التوا کیسز نمٹانے کیلیے بڑا اقدام

اسلام آباد ہائی کورٹ نے ہتک عزت کے زیرِ التوا کیسز نمٹانے کے لیے بڑا اقدام اٹھایا ہے۔

اسلام آباد ہائی کورٹ کے احکامات کے مطابق سیشن کورٹس کو ہتک عزت کے پرانے کیسز آرڈیننس کے مطابق 9 ماہ میں نمٹانے ہوں گے، کیسز کی روزانہ کی بنیاد پر بھی سماعت کرنا پڑے تو کریں۔

گزشتہ ماہ چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ نے انصاف کی جلد فراہمی کے لیے زیرِ التوا مقدمات کو نمٹانے سے متعلق بڑا حکم دیا تھا۔

چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ محمد قاسم خان نے اہم فیصلہ دیا اور سالہاسال سے زیرِ التوا ہزاروں مقدمات کا ڈیڑھ ماہ میں فیصلہ کرنے کا حکم جاری کیا تھا۔

جسٹس محمد قاسم خان نے اس معاملے پر ڈائریکٹوریٹ آف ڈسٹرکٹ جوڈیشری کے سیشن ججز کو ہدایت جاری کرتے ہوئے کہا تھا کہ دو ہزار سولہ تک کے زیرِ التوا تمام سول و سیشن مقدمات اکتیس مارچ تک نمٹائے جائے۔

واضح رہے کہ جسٹس محمد قاسم خان نے چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ نے گذشتہ سال 19مارچ کو حلف اٹھایا تو سب سے پہلے تین نکات پر کام شروع کیا تھا جن میں سائلین کو بروقت انصاف کی فراہمی کو عملی طور پر یقینی بنانا، وکلا کی فلاح و بہبود کے لیے عملی اقدامات کرنا، اور عدالت عالیہ اور ماتحت عدالتو ں میں ججز کی شفاف تقرریاں کرنا تھا۔

خیال رہے کہ پنجاب آبادی کے تناسب سے تو بڑا صوبہ ہے ہی لیکن زیرِ التوا مقدمات کے لحاظ سے بھی بڑا صوبہ ہے۔ پورے پاکستان کے 84 فیصد زیرِ التوا مقدمات صرف پنجاب کی عدالتوں میں زیرِ سماعت ہیں اور 16 فیصد دیگر صوبوں میں زیرِ سماعت ہیں۔

Comments

یہ بھی پڑھیں