The news is by your side.

Advertisement

نواز شریف کو اشتہاری قرار دینے کا فیصلہ2 ہفتے کے لیے مؤخر

اسلام آباد : اسلام آباد ہائی کورٹ نے نواز شریف کو اشتہاری قرار دینے کا فیصلہ دو ہفتےکے لیے مؤخر کردیا اور آئندہ سماعت پر ایف آئی اے اور دفتر خارجہ کے اہلکاروں کے بیانات قلمبند کرنے کی ہدایت کردی۔

تفصیلات کے مطابق اسلام آباد ہائی کورٹ میں نواز شریف کی بذریعہ اشتہار طلبی سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی ، اسلام آباد ہائیکورٹ کے ڈویژن بنچ پر مشتمل جسٹس عامر فاروق اور جسٹس محسن اختر کیانی نے سماعت کی۔

ایڈیشنل اٹارنی جنرل طارق کھوکھر نے عدالت کو بتایا کہ عدالتی حکم پر عمل درآمد کر دیا گیا ہے، نواز شریف کی طلبی کے لیےعدالتی حکم پر اشتہار شائع کیا گیا، اشتہارات 19 اکتوبر 2019 کو شائع ہوئے۔

طارق کھوکھر نے کہا کہ اشتہار لاہور لندن اور اسلام آباد ہائیکورٹ ، جاتی امرا،ماڈل ٹاؤن اور اسلام آباد ہائیکورٹ کےباہر اشتہار چسپاں کیے گئے اور عدالتی احکامات سے نواز شریف کو آگاہ کردیا گیا ہے۔

دفتر خارجہ کے ڈائریکٹر مبشر خان نےبیان ریکارڈ کرایا، ایڈیشنل اٹارنی جنرل طارق کھوکھر نے کہا کہ لندن میں ہائی کمیشن کے اہلکار آئندہ سماعت پر بیان ریکارڈ کرائیں گے، طلبی کا اشتہار رائل میل کے ذریعے ایون فیلڈ اپارٹمنٹس بھی بھیجا۔

جسٹس عامر فاروق نے استفسار کیا کہ دونوں افسران کا بیان آج ریکارڈ کریں ؟ ایڈیشنل پراسیکیوٹر جنرل نیب نے بتایا کہ جیسے ہی عدالت بہتر سمجھے افسران کا بیان ریکارڈ کرے۔

عدالت نے نوازشریف کواشتہاری قراردینے کا فیصلہ موخر کرتے ہوئے آئندہ سماعت پر ایف آئی اے افسران کا بیان ریکارڈ کرنے اور وزارت خارجہ اورایف آئی اے کو تمام دستاویزات عدالت کوجمع کرانے کی ہدایت کردی۔

عدالت نے اشتہارات کی تعمیل کرنے والے افسران کے بیانات قلمبند کرنےکا فیصلہ کرتے ہوئے کہا اشتہاری قرار دینے سے پہلے اطمینان کےلیے ایف آئی اے لاہور کے افسراعجاز احمد اور طارق مسعود کے بیانات قلمبند کیے جائیں گے۔

ایڈیشنل پراسیکیوٹرجنرل نے استدعا کی کہ دستاویزات جمع کرانے اور بیان کے لیے2ہفتےکاوقت دیاجائے، جس پر جسٹس عامر فاروق نے کہا بیان ریکارڈ کرنے کے لئے اتنےطویل وقت کی ضرورت نہیں، کیا نواز شریف کووکیل رکھنے کا حق ہوگا یا نہیں؟ ایڈیشنل پراسیکیوٹر جنرل عدالت کو مطمئن کریں اور آئندہ سماعت پر ایڈیشنل پراسیکیوٹر جنرل نیب عدالتی معاونت کریں۔

بعد ازاں عدالت نے کیس کی سماعت 2 دسمبر تک ملتوی کردی۔

خیال رہے عدالت نےنوازشریف کےناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کیےہوئے ہیں جبکہ نواز شریف کو دو مرتبہ ذاتی طور پر گرفتاری پیش کرنے اور ایک بار ورنٹ گرفتاری اور اخبار اشتہار کے ذریعے پیش ہونے کا حکم دیا گیا تھا۔

خیال رہے ایون فیلڈریفرنس میں عدالت نےنواز شریف کی 10 سالہ سزامعطل کررکھی ہے جبکہ العزیزیہ ریفرنس میں نواز شریف کی اپیل زیرسماعت ہے، العزیزیہ ریفرنس میں احتساب عدالت نےنوازشریف کو7سال قیدسزاسنائی تھی۔

نیب کی نواز شریف کی سزا 7 سےبڑھا کر14 سال کرنےکی اپیل پرسماعت بھی آج ہوگی جبکہ فلیگ شپ ریفرنس میں نوازشریف کی بریت کیخلاف نیب اپیل پرسماعت بھی ہوگی۔

یاد رہے اسلام آبادہائی کورٹ نے نواز شریف کے اشتہارجاری کرنے کا حکم دیتے ہوئے کہا  تھا کہ 30 دن کے اندر اگر ملزم پیش نہیں ہوتے تو اشتہاری قرار دیا جائے۔

عدالت کا کہنا تھا کہ  اخبارمیں چھپنے کے بعد اشتہار کو مختلف مقامات پر چسپاں کیا جائے گا اور اشتہار اسلام آبادہائی کورٹ، نوازشریف کی لاہور اور لندن رہائشگاہ کے باہر چسپاں کیا جائے گا۔

Comments

یہ بھی پڑھیں