The news is by your side.

Advertisement

چینی انکوائری کمیشن کیس: شوگر ملز کے خلاف کارروائی کی اجازت

اسلام آباد: اسلام آباد ہائی کورٹ نے چینی انکوائری رپورٹ پر حکم امتناع ختم کرتے ہوئے حکومت کو شوگر ملز کے خلاف کارروائی کی اجازت دے دی۔

تفصیلات کے مطابق چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ نے شوگر ملز مالکان کی درخواست کو مسترد کرتے ہوئے حکم امتناع بھی ختم کر دیا۔عدالت نے مختصر فیصلے میں شوگر انکوائری رپورٹ پر متعلقہ اداروں کو کارروائی کی بھی اجازت دے دی ہے۔

چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ نے 4 صفحات پر مشتمل فیصلہ جاری کیا۔کیس پرتفصیلی فیصلہ بعد میں جاری کیا جائےگا۔

قبل ازیں چینی انکوائری کمیشن کیس میں ملز مالکان کی درخواست پر سماعت کے دوران اٹارنی جنرل پاکستان خالد جاوید خان نے دلائل کے دوران پانامہ کیس اور جعلی اکاؤنٹ کیس کا حوالہ دیتے ہوئے کہا تھا کہ عدالت نے پاناما کیس اور جعلی بنک اکاؤنٹس کیس میں جی آئی ٹی تشکیل دی جس میں مختلف اداروں کے افسران کو شامل کیا گیا۔

انہوں نے کہا کہ یہ وجہ تھی کہ شوگر انکوائری کمیشن میں حکومت نے تحقیقات کے لیے مختلف اداروں کے افسران شامل کیے، یہ کہنا غلط ہو گا کہ انکوائری کمیشن سیاسی مخالفین سے انتقام کے لیے بنایا گیا۔

خالد جاوید خان کا دلائل دیتے ہوئے کہنا تھا کہ انکوائری تو حکومت کے اپنے مضبوط اتحادیوں اور دوستوں کےخلاف بھی ہو رہی ہے، اپنے دوستوں اور اتحادیوں کےخلاف کارروائی کے لیے بڑی جرات اور عزم چاہیے، دوستوں اور اتحادیوں کے خلاف بھی کارروائی ثبوت ہے کہ یہ کسی تعصب پر مبنی کارروائی نہیں ہے۔

عدالت میں سماعت کے دوران ان کا کہنا تھا کہ کہا کہ کہا گیا کہ آگے چل کر اس رپورٹ کا غلط استعمال ہو گا، مستقبل کے کسی مفروضے پر آج تحقیقات روکی نہیں جا سکتیں، بغیر کسی دلیل کے کہا گیا کہ انکوائری کمیشن تعصب پر مبنی ہے، انکوائری کمیشن کے کسی ممبر پر بزنس مفادات، سیاسی وابستگی کا الزام نہیں ہے۔

اٹارنی جنرل پاکستان کا کہنا تھا کہ کمیٹی کے ممبران قابل افسران اور کسی بھی حکومت کا پریشر نہ لینے والے ہیں، انکوائری کمیشن کا ٹاسک فیکٹ فائنڈنگ کے بعد اپنی سفارشات دینا تھا، انکوائری کمیشن نے اپنی دو طرح کی سفارشات دیں، انکوائری کمیشن نے فوری نوعیت کی کارروائی کے علاوہ طویل مدتی اقدامات کی بھی سفارش کی۔

انہوں نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ انکوائری کا مقصد جب کسی بدنیتی سے زاتی فائدہ لینا ہے ہی نہیں تو تعصب کیسا؟ آئین کا آرٹیکل نو ہر شہری کو زندگی کا بنیادی حق دیتا ہے، شہری کو زندگی کا تحفظ فراہم کرنے سے مراد اس کی خوراک کی ضروریات پوری کرنا بھی ہے، شہریوں کو زندگی کا یہ حق مہیا کرنا صرف صوبائی نہیں، وفاقی حکومت کا بھی کام ہے، چینی بحران کے اصل محرکات اور ذمہ داروں کا تعین بھی اسی جذبے کے تحت کیا جا رہا ہے۔

خالد جاوید خان کا دلائل دیتے ہوئے کہنا تھا کہ حکومت شوگر انکوائری پر خود کوئی “پِک اینڈ چُوز” نہیں کرنا چاہتی، حکومت نے اسی لیے معاملہ متعلقہ اداروں کو بھیج دیا ہے، نیب، ایف بی آر ، ایس ای سی پی آزادانہ طور پر اس معاملے کو دیکھیں گے، ادارے اپنے قانون کے مطابق دیکھیں گے کس کے خلاف کیا کارروائی بنتی ہے۔

شوگر ملز ایسوسی ایشن کے وکیل نے جوابی دلائل دیتے ہوئے کہا کہ حکومت کی جانب سے شوگر ملز مالکان کو مافیا تک کہا جا رہا ہے، جو لوگ پہلے سے اپنی سوچ کا اظہار کرچکے انہیں کارروائی جاری رکھنے کی اجازت کیسے دی جا سکتی ہے، جن اداروں کے لوگ خود انکوئری کمیشن میں بیٹھ کر رپورٹ لکھ چکے وہ اب تحقیقات کریں گے،اگر تعصب پر مبنی اس کارروائی پر ٹرائل ہو جائے تو نا انصافی ہو گی۔

چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ چینی رپورٹ میں موجودہ حکومت کے ذمہ داران کو بھی مورد الزام ٹھہرایا گیا، ملز مالکان تو فائدہ لینے والے ہیں، اصل مسئلہ تو عوامی عہدہ رکھنے والوں کو ہونا چاہیے،ذمہ دار قرار دیے گئے کسی حکومتی رکن نے چینی رپورٹ کو چیلنج نہیں کیا؟

شوگر ملز مالکان کے وکیل کا دلائل دیتے ہوئے کہنا تھا کہ کابینہ کا الگ اور معاون خصوصی کا الگ فیصلہ ہوا،شہزاد اکبر کو ذمہ داری دی گئی کہ وہ کمیشن کی سفارشات پر عمل درآمد کرائیں گے۔

چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ کیا کابینہ اپنے اختیارات کسی اور کو دے سکتی ہے؟ عدالت نے مسابقتی کمیشن کیس کے فیصلے میں کہا ہے کہ کابینہ اپنا اختیار کسی کو نہیں دے سکتی۔اٹارنی جنرل نے کہا کہ میں حکومت کو ایڈوائس دیتا ہوں کہ وہ اس پر نظرثانی کرے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں