The news is by your side.

Advertisement

سابق گورنر پنجاب کی برطرفی، عدالت نے لارجر بینچ تشکیل دے دیا

اسلام آباد: عدالت نے سابق گورنر پنجاب عمر سرفراز چیمہ کی عہدے سے ہٹانے کے خلاف درخواست پر اعتراض دور کرتے ہوئے لارجر بینچ تشکیل دے دیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق اسلام آباد ہائیکورٹ میں سابق گورنر پنجاب عمر سرفراز چیمہ کی برطرفی کی درخواست پر سماعت ہوئی، اسلام آباد ہائیکورٹ کےچیف جسٹس اطہر من اللہ نے سماعت کی، اس موقع پر سابق گورنرپنجاب اپنے وکیل بابراعوان کے ساتھ عدالت میں پیش ہوئے۔

سماعت کے آغاز پر سابق گورنر کے وکیل بابر اعوان نے کہا کہ ہماری درخواست پر دو قسم کے اعتراضات لگائے گئے ہیں، ایک اعتراض یہ ہے کہ برطرفی کی واٹس ایپ کاپی لگائی گئی، نوٹیفکیشن ہمیں نہیں دیا گیا تھا اس لیے وہ ساتھ نہیں لگا سکے،ایک اعتراض یہ کہ ہمارا دائرہ اختیار نہیں۔

جس پر چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ جسٹس اطہر من اللہ نے ریمارکس دیئے کہ عمر سرفراز چیمہ کو ڈی نوٹیفائی تو وفاق نے کیا ہے، صدر کا اختیار اور کہاں ان پر بائنڈنگ ہے یہ تو پہلے سے طے ہے؟ یہ پارلیمانی نظام حکومت ہے، صدارتی نظام حکومت نہیں۔

بعد ازاں عدالت نےسابق گورنرپنجاب کے کیس پر رجسٹرار آفس کے اعتراضات دور کرتے ہوئے مزید سماعت کیلئےلارجر بینچ تشکیل دےدیا اور مزید سماعت منگل تک ملتوی کردی۔

یہ بھی پڑھیں: پی ٹی آئی کا گورنر پنجاب کی برطرفی عدالت میں چیلنج کرنے کا فیصلہ

یاد رہے کہ انیس مئی کو سابق گورنرپنجاب عمرسرفرازچیمہ نے عہدے سے ہٹانے کے اقدام کے خلاف اسلام آباد ہائی کورٹ میں درخواست دائر کی تھی، درخواست میں کہا گیا تھا کہ آئین کے مطابق گورنر صوبے میں ایجنٹ ہے ،ایگزیکٹو کا حصہ نہیں ہے، صدر کی خوشنودی پرگورنرعہدے پر قائم رہ سکتا ہے۔

دائر درخواست میں سابق گورنر پنجاب کا کہنا تھا کہ مجھےعہدے سے ہٹانے نے صوبے میں آئینی بحران پیدا کیا ، ملک کا سب سے بڑا صوبہ 2ماہ سے بغیر کابینہ کے چل رہا ہے۔

درخواست میں استدعا کی گئی کہ جس نےنوٹیفکیشن جاری کیایا کرایا ان کے خلاف کاروائی کا حکم دیا جائے، نوٹیفکیشن غیر قانونی قرار دےکربطور گورنر عہدے پربحال کیا جائے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں