site
stats
پاکستان

ملک کا سب سے بڑامسئلہ توہین رسالت ہے، وزیراعظم کو بلانا پڑا تو بلائیں گے،جسٹس شوکت عزیزصدیقی

اسلام آباد : اسلام آباد ہائی کورٹ نے سوشل میڈیا پر گستاخانہ مواد کامعاملہ وزیر اعظم تک پہنچانے کا حکم دے دیا، جسٹس شوکت عزیزصدیقی نے کہا کہ ملک کا سب سے بڑامسئلہ توہین رسالت کا ہے،ایکشن نہ ہوا تو وزیراعظم کو طلب کریں گے۔

تفصیلات کے مطابق سوشل میڈیا پر گستاخانہ مواد سے متعلق کیس کی سماعت جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے کی، سوشل میڈیا کا نیا مواد پیش کئے جانے پر جسٹس شوکت دوبارہ آبدیدہ ہوگئے۔

جسٹس شوکت نے گستاخانہ مواد کا معاملہ وزیر اعظم تک پہنچانے کا حکم دیتے ہوئے کہا اگر وزیراعظم کو بلانا پڑے تو بلائیں گے، ملک کا سب سے بڑامسئلہ توہین رسالت کا ہے، قانون نافذ کرنے والے ادارے بھی حرکت میں آئیں۔

c1

c2

سیکرٹری داخلہ نے عدالت کو بتایا کہ سوشل میڈیا پرگستاخانہ مواد اپ لوڈ کرنے والوں کے خلاف ایف آئی آر درج کرنے کا فیصلہ کرلیا گیا ہے، پی ٹی اے چیئرمین نے بیان میں کہا کہ گستاخانہ مواد کے حامل فیس بک کے چار پیجز بلاک کردیئے ہیں۔

انھوں نے واضح کیا کہ یہ صرف جسٹس شوکت عزیز کا مسئلہ نہیں پوری عدلیہ اس مسئلے پر متحد ہے، پارلیمنٹ حساس معاملے پر خاموش ہے، یہ پوری امت کا مسلمہ کا مسئلہ ہے، اس مسئلے نے مجھے بہت دکھ دیا ،8دن سے نیند حرام ہے، میں نےقانون کی بالادستی کے لئے حلف اٹھایا ہے ، اس معاملےسےبڑی دہشت نہیں ہوسکتی۔

c3


مزید پڑھیں : سوشل میڈیا سے تمام گستاخانہ مواد آج ہی بلاک کیا جائے ،جسٹس شوکت عزیز صدیقی


یاد رہے کہ گذشتہ روز سوشل میڈیا پر گستاخانہ مواد کے معاملے پر اسلام آباد ہائی کورٹ نے سوشل میڈیا پر گستاخانہ مواد اپ لوڈ کرنے میں ملوث افراد کا نام فوری ای سی ایل میں ڈالنے کا حکم دیا تھا اور کہا تھا کہ سوشل میڈیا سے تمام گستاخانہ مواد آج ہی بلاک کیا جائے۔

چیف جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے مقدس ہستیوں کی شان میں گستاخی کے حوالے سے سیکرٹری داخلہ سے استفسار کیا کہ اب تک آپ نے کوئی کارروائی کی ہے، معاملہ بہت حساس ہے جلد از جلد اس کو حل کیا جائے، اس معاملے پر آج ہی ایکشن لیں اور گستاخانہ مواد آج ہی بلاک کریں۔

جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے کہا کہ کیس کی روزانہ کی بنیاد پرسماعت کروں گا، جو بھی ملوث ہے ان کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔

Print Friendly, PDF & Email
20

Comments

comments

اس ویب سائیٹ پر موجود تمام تحریری مواد کے جملہ حقوق@2018 اے آروائی نیوز کے نام محفوظ ہیں

To Top