The news is by your side.

Advertisement

کوئی شخص عدالتی حکم کے بغیر اپنا مذہب تبدیل نہیں کر سکتا، عدالت

اسلام آباد: اسلام آباد ہائیکورٹ الیکشن ایکٹ میں ختم نبوت سے متعلق درخواست پر سماعت میں مذہب کی تبدیلی سے متعلق حکم امتناع جاری کر دیا، جس میں کہا گیا کہ کوئی شخص عدالتی حکم کے بغیر اپنامذہب تبدیل نہیں کر سکتا۔

تفصیلات کے مطابق اسلام آباد ہائیکورٹ میں الیکشن ایکٹ میں ختم نبوت سے متعلق درخواست پر سماعت ہوئی، سماعت ہائیکورٹ کے سنگل رکنی بنچ جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے کی، درخواست گزار کی جانب سے حافظ عرفات اور کاشف ایڈووکیٹ عدالت میں پیش ہوئے۔

درخواست گزار کے وکیل حافظ عرفات نے دلائل مکمل کرلئے، جس کے بعد عدالت نے اس کیس میں عدالتی معاونت کے لئے محمد اکرم شیخ ایڈووکیٹ، ڈاکٹر بابر اعوان ایڈووکیٹ اور اسلم خاکی ایڈووکیٹ کو متعین کر دیا۔

عدالتی حکم پر نادرا کی جانب سے رجسٹرڈ قادیانیوں کا ریکارڈ پیش کی، نادرا ریکارڈ قائم مقام ڈی جی نادرا نے پیش کیا، نادرا کے ریکارڈ میں قادیانیوں کے حوالے سے اہم انکشافات کئے گئے۔

نادرا رپورٹ میں کہنا تھا کہ ملک میں رجسٹرڈ قادیانیوں کی تعداد ایک لاکھ 67 ہزار 473 ہے، 10205 افراد نے بطور مسلمان شناختی کارڈ تبدیل کرنے کے بعد قادیانی مذہب کا اسٹیٹس اپنایا۔

قادیانی اسٹیٹس حاصل کرنے والے افراد کا ڈیٹا سربمہر لفافے میں پیش کیا گیا۔

جسٹس شوکت صدیقی نے قائم مقام چیرمین نادرا سے استفسار کیا کہ کیا نادرا کسی مسلمان پاکستانی کا مذہب تبدیل کر سکتا ہے؟ جس پر قائم مقام چیرمین نادرا نے بتایا کہ نادرا کے سسٹم میں ایسا کوئی آپشن موجود نہیں، مذہب تبدیل کرنےوالےشناختی کارڈ بناتے وقت جھوٹا حلف نامہ دیتے ہیں۔

جسٹس شوکت صدیقی نے ریمارکس میں کہا کہ یہ سب ریاست اور مسلم امہ سے بڑا فراڈ ہے،قادیانی سرکاری ملازمت حاصل کرنے کے لئے جھوٹ بول کر اپنی مذہب اسلام ظاہر کرتے ہیں اور پھر ریٹائرمنٹ کے بعد اپنی اصل مذہب میں منتقل ہو جاتے ہیں۔

عدالت نے مذہب کی تبدیلی سے متعلق حکم امتناع جاری کر دیا اور حکم دیا کہ کوئی شخص عدالتی حکم کے بغیر اپنی مذہب تبدیل نہیں کر سکتا، حکم امتناع کے بعد اب نادرا کسی کی مذہب تبدیل نہیں کر سکتے۔

بعد ازاں عدالت نے کیس کی سماعت پیر تک ملتوی کر دی۔


خبر کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کمنٹس میں کریں‘مذکورہ معلومات کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہچانے کے لیے سوشل میڈیا پر شیئر کریں۔

Print Friendly, PDF & Email

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں