The news is by your side.

Advertisement

نوازشریف ،مریم نوازاور کیپٹن ریٹائرڈ صفدرکی درخواست ضمانت مسترد

اسلام آباد : اسلام آباد ہائی کورٹ نے شریف خاندان کی سزا کیخلاف اپیل پر نوٹس جاری کرتے ہوئے مقدمے کا ریکارڈ طلب کرلیا اور نوازشریف ، مریم نواز اور کیپٹن ریٹائرڈ صفدر کی درخواست ضمانت مسترد کردی۔

تفصیلات کے مطابق اسلام آباد ہائی کورٹ میں ایون فیلڈ ریفرنس میں سزا یافتہ نوازشریف، مریم اور کیپٹن صفدر کی سزا کے خلاف اپیلوں کی سماعت شروع ہوگئی، جسٹس محسن اختر کیانی اور جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب پر مشتمل ڈویژن بنچ اپیلوں پر سماعت کررہا ہے۔

راجہ ظفرالحق، پرویز رشیداور  بیرسٹر ظفر عدالت میں موجود ہے۔

نوازشریف کے وکیل کی 2ریفرنس دوسری عدالت منتقل کرنے کی استدعا


نوازشریف کے وکیل خواجہ حارث نے دلائل کا آغاز کرتے ہوئے 2ریفرنس دوسری عدالت منتقل کرنے کی استدعا کی اور کہا کہ جج محمد بشیر ایک ریفرنس پر فیصلہ دے چکے، باقی 2 ریفرنس دوسری عدالت منتقل کئے جائیں۔

عدالت نے استفسار کیا کن بنیادوں پر کیس ٹرانسفر کرنا چاہتے ہیں، جس پر وکیل خواجہ حارث نے کہا کہ ایک پر فیصلہ سنانے کے بعد جج محمد بشیر2ریفرنسز پر سماعت نہیں کر سکتے، ملزمان کا دفاع دوسرے ریفرنسز میں بھی مشترک ہے۔

جسٹس محسن اخترکیانی نے استفسار کیا جج جانبدار ہے، وکیل کا کہنا تھا کہ ہمارا کیس یہ نہیں ہے جج ہمارے خلاف کوئی رنجش رکھتے ہیں۔

اسلام آباد ہائی کورٹ نے نیب کورٹ کو نوٹسز جاری کرتے ہوئے جواب طلب کرلیا اور ریفرنس دوسری عدالت منتقل کرنے کی درخواست پر سماعت30 جولائی تک ملتوی کردی۔

شریف خاندان کی سزا کیخلاف اپیل پر نوٹس جاری، مقدمے کا ریکارڈ طلب


دوسری جانب اسلام آباد ہائی کورٹ نواز شریف، مریم نوازاورکیپٹن(ر) صفدر کی سزا کیخلاف اپیل پر نوٹس جاری کرتے ہوئے مقدمے کا ریکارڈ طلب کرلیا، جسٹس محسن اخترکیانی نے سوال کیا کتنے صفحات ہوں گے؟ کم از کم 100 صفحات ہر والیم کے فراہم کریں۔

نوازشریف ،مریم نوازاورکیپٹن ریٹائرڈصفدرکی درخواست ضمانت مسترد


اسلام آباد ہائی کورٹ نے مریم نواز اور کیپٹن(ر) صفدر کی سزا معطلی کی درخواستوں پر نیب سے جواب طلب کرلیا اور نواز شریف ،مریم نواز اور کیپٹن(ر)صفدر کی ضمانت سے متعلق استدعا بھی مسترد کردی۔

درخواست پرسماعت جولائی کے آخری ہفتے تک ملتوی کردی۔

نیب کا جواب آنے تک دونوں ریفرنسز کی سماعت پر حکم امتناع کی استدعا مسترد


نواز شریف کے وکیل خواجہ حارث کی جانب سے نیب کا جواب آنے تک دونوں ریفرنسز کی سماعت پر حکم امتناع کی استدعا مسترد کردی ، جسٹس محسن اختر کیانی نے ریمارکس میں کہا کہ جج بشیر سے متعلق چیف جسٹس کو انتظامی بنیاد پر فیصلہ کرنے دیں، اس کیس کو جولائی کے آخری ہفتے تک ملتوی کر دیتے ہیں۔

خیال رہے کہ نواز شریف کے وکیل خواجہ حارث نے حکم امتناع کی استدعا کی تھی۔

نیب پراسکیوشن ونگ نے احتساب عدالت کے فیصلے کا دفاع کرنے کی بھرپور تیاری کی ہے، نیب ٹیم عدالت کو قانونی نکات سے آگاہ کرے گی اور کرپشن کے مجرموں کو ریلیف دینے کی مخالفت کرے گی جبکہ مریم اور کیپٹن صفدر کو جیل میں ہی رکھنے کی استدعا کی جائے گی۔

گذشتہ روز نواز شریف ،مریم نواز اورکیپٹن(ر)صفدر نے احتساب عدالت کی جانب سے سزاؤں کیخلاف اپیلیں دائر کیں تھیں ، اپیلوں میں استدعا کی گئی تھی کہ احتساب عدالت کا فیصلہ کالعدم قرار دے کر بری کیا جائے، اپیلوں پر فیصلے تک ضمانت پر رہا کیا جائے اور عارضی طور پر سزائیں معطل کی جائیں۔

اپیلوں میں موقف اختیارکیا گیا کہ ضمنی ریفرنس اور عبوری ریفرنس کے الزامات میں تضاد تھا، حسن اور حسین نواز کو ضمنی ریفرنس کانوٹس نہیں بھیجاگیا، صفائی کے بیان میں بتایا تھا، استغاثہ الزام ثابت کرنے میں ناکام ہوگیا تھا۔


مزید پڑھیں : ایون فیلڈ فیصلہ، نوازشریف، مریم نواز اور کیپٹن ریٹائرڈ صفدر کی اپیلیں کل سماعت کے لیے مقرر


اپیلوں میں مزید کہا گیا کہ احتساب عدالت کو فیصلہ ایک ہفتے مؤخر کرنے کی درخواست کی تھی، عدالت نے درخواست مسترد کرکے غیر حاضری میں فیصلہ سنایا۔

دائر اپیلوں میں احتساب عدالت کے جج اور نیب کو فریق بنایا گیا ہے جبکہ نواز شریف کی چارج شیٹ کو بھی شامل کیا گیا ہے۔

یاد رہے کہ 13 جولائی کو نوازشریف اور مریم نواز کو لندن سے لاہورپہنچتے ہی گرفتار کرلیا گیا تھا ، جس کے بعد دونوں کو خصوصی طیارے پر نیو اسلام آباد ایئر پورٹ لایا گیا، جہاں سے اڈیالہ جیل منتقل کردیا گیا تھا جبکہ کیپٹن صفدر پہلے سے ہی اڈیالہ جیل میں ہیں۔

واضح رہے کہ احتساب عدالت نے چھ جولائی کو ایون فیلڈ ریفرنس میں نوازشریف کو مجموعی طورپر گیارہ سال اور مریم نواز کو آٹھ سال قید بامشقت اور جرمانے کی سزا سنائی تھی اور ساتھ ہی مجرموں پر احتساب عدالت کی جانب سے بھاری جرمانے عائد کیے گئے تھے۔

فیصلے میں مریم نواز اور کیپٹن صفدر کو 10 سال تک کسی بھی عوامی عہدے کے لیے بھی نااہل قرار دیا تھا۔


خبر کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کمنٹس میں کریں۔ مذکورہ معلومات کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچانے کے لیے سوشل میڈیا پر شیئر کریں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں