پیر, مارچ 16, 2026
اشتہار

اسلام آباد انتظامیہ کی جانب سے کتوں کو مارنے کی تصدیق ہوئی تو مقدمہ درج ہوگا ، عدالت کا عندیہ

اشتہار

حیرت انگیز

اسلام آباد : نو اکتوبر کو اسلام آباد میں مردہ کتوں کا واقعہ اسلام آباد ہائی کورٹ پہنچ گیا، جس پر ہائی کورٹ نے خبردار کیا اسلام آباد انتظامیہ کی جانب سے کتوں کو مارنے کی تصدیق ہوئی تو مقدمہ درج ہوگا۔

تفصیلات کے مطابق اسلام آباد ہائی کورٹ میں آوارہ کتوں کے خاتمے اور مبینہ طور پر انہیں ہلاک کرنے کے خلاف کیس کی سماعت ہوئی۔

جسٹس خادم حسین سومرو نے سماعت کے دوران نو اکتوبر کو اسلام آباد میں مردہ کتوں کے واقعے پر سی ڈی اے اور میونسپل کارپوریشن سے جواب طلب کر لیا۔

عدالت نے ریمارکس دیے کہ اگر متعلقہ حکام کی جانب سے کتوں کو مارنے کی تصدیق ہوئی تو مقدمہ درج کیا جائے گا۔

درخواست گزار نیلوفر کی جانب سے مرکزی کیس میں فریق بننے کی متفرق درخواست بھی عدالت نے منظور کر لی۔

عدالت نے سی ڈی اے اور میونسپل کارپوریشن کو ہدایت کی کہ وہ نو اکتوبر کے واقعے پر تفصیلی جواب جمع کروائیں۔

سماعت کے دوران مردہ کتوں کو دیکھنے والی عینی شاہد خاتون عدالت میں پیش ہوئیں۔ عدالت نے ان کا بیان ریکارڈ کا حصہ بنا دیا۔.

عینی شاہد نے بیان دیا کہ ’’میں نے نو اکتوبر کو سی ڈی اے آفس کے قریب ایک گاڑی دیکھی جس میں سیکڑوں مردہ کتے موجود تھے۔‘‘

وکیل التمش سعید نے عدالت کو بتایا کہ سی ڈی اے اور میونسپل کارپوریشن آوارہ کتوں کو پکڑ کر گولی مار دیتے ہیں، حالانکہ 2020 میں اس عمل کو روکنے کے لیے ایک پالیسی تشکیل دی گئی تھی۔

انہوں نے عدالت سے استدعا کی کہ متعلقہ حکام سے وضاحت طلب کی جائے اور اس غیر انسانی عمل کو فوری روکا جائے۔

عدالت نے سی ڈی اے اور میونسپل کارپوریشن سے تفصیلی جواب طلب کرتے ہوئے سماعت ملتوی کر دی۔

+ posts

اہم ترین

مزید خبریں