The news is by your side.

Advertisement

لاپتہ افراد کیس: وفاقی حکومت کو پرویز مشرف اور تمام وزرائےاعظم کو نوٹس جاری کرنے کا حکم

اسلام آباد : اسلام آباد ہائی کورٹ  نے 5 لاپتہ افراد سے متعلق کیس میں وفاقی حکومت کوپرویزمشرف اورتمام وزرائےاعظم کونوٹس جاری کرنے کا حکم دے دیا۔

تفصیلات کے مطابق اسلام آباد ہائی کورٹ میں چیف جسٹس اطہر من اللہ نے پانچ لاپتہ افراد کے کیسز پر سماعت کی، دوران سماعت چیف جسٹس نے ریمارکس میں کہا کہ وفاقی حکومت کا کردار کہان ہے، اس عدالت نے حکامات دیئے ہیں عمل درآمد کیوں نہیں ہوا۔

سرکاری وکیل نے بتایا کہ سپریم کورٹ میں اس نوعیت کا ایک کیس ہے، جس پر جسٹس اطہر من اللہ کا کہنا تھا کہ اس عدالت میں جو کیس زیر سماعت ہے اس کی بات کر لیں۔

عدالت نے گزشتہ آرڈر پڑھنے کا حکم دیا، چیف جسٹس نے استفسار کیا کیا یہ اسٹیٹ کی یہ ذمہ داری ہے کہ عدالتی حکم پر عمل درآمد نہ کریں، تسلیم شدہ ہے کہ ایک چیف ایگزیکٹو نے "ان دا لائن” فائر میں کہا جبری گمشدگی ریاست کی پالیسی ہے، ریاست کے ایکٹ سے نظر آنا چاہیے کہ جبری گمشدگی ریاست کی پالیسی نہیں۔

چیف جسٹس نے کہا کہ لاپتہ افراد کو عدالت پیش کریں یا ریاست کی ناکامی کا جواز دیں، کیوں نا عدالت تمام چیف ایگزیکٹوز پر آئین سے مبینہ انحراف پر کارروائی کرے؟

عدالت نے وفاقی حکومت کو پرویز مشرف سے لےکر آج تک تمام وزرائے اعظم کو نوٹس جاری کرنے کا حکم دے دیا۔

ڈپٹی اٹارنی جنرل نے بتایا کہ اٹارنی جنرل اس وقت ملک سے باہر ہے، جس پر چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ کیا ملک کے چیف ایگزیکٹو کو ثمن جاری کروں، یہ عدالتی حکم کی ایک ایک لفظ کا جواب چاہئے۔

عدالت نے سرکاری وکیل سے اظہار برہمی کرتے ہوئے کہا مسنگ پرسنز پر کتنے پروگرام ہوئے ہیں، عدالت کے ساتھ بلیم گیم نا کھیلا جائے کس چیز کی گھبراہٹ ہے۔

سرکاری وکیل نے بتایا کہ مسنگ پرسنز پر پروگرام کرنے کے لئے وفاق نے پی بی اے کو خط لکھ دیا ہے۔

کرنل ر انعام رحیم ایڈووکیٹ کا کہنا تھا کہ اس معاملے پر وزیر اعظم نے آئی ایم ایف مذاکرات نہیں کرنے ہیں، مسنگ پرسنز پر ایک خفیہ ٹرائل کرایا گیا ہے،خفیہ ٹرائل سے مسنگ پرسنز کے خاندان کو بھی نہیں بتایا گیا تاہم جیل ذرائع سے معلوم ہوا کہ ٹرائل مکمل ہو گیا ہے۔

جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ اس معاملے پر انٹیلیجنس بیورو اور دیگر خفیہ ادارے ملوث ہیں، کوئی بھی ججمنٹ ہوا میں نہیں دیا جا سکتا، عدالت کو بتایا جائے کہ کس نے کس کو اٹھایا۔

جسٹس اطہر من اللہ کا کہنا تھا کہ وزیر اعظم مسنگ پرسنز کے حوالے سے ناکام ہے، ابھی بھی شکایات آ رہی ہیں لوگوں کو مسنگ کیا جا رہا ہے،اسٹیٹ مسنگ پرسنز کیس میں ملوث ہے، ماورائے عدالت قتل پولیس نے کئے ہیں۔

عدالت نے اٹارنی جنرل کو ذاتی حیثیت میں پیش ہونے کا حکم دیتے پوئے کہا ڈپٹی اٹارنی جنرل عدالت کو مطمئن نہیں کر سکے، عدالت نے یہ معاملہ گزشتہ کابینہ میں بھیجا تھا، مگر کوئی حل نہیں نکلا۔

عدالت نے سابق وزیرداخلہ شیخ رشید اور موجودہ وزیر داخلہ رانا ثنا اللہ کو بھی ذاتی میں پیش ہونے کا حکم دیتے ہوئے کہا اس کیس کو مزید التوا میں نہیں رکھ سکتے بعد ازاں سماعت 4 جوائی تک کے لئے ملتوی کردی گئی۔

Comments

یہ بھی پڑھیں