The news is by your side.

Advertisement

نواز شریف کے بعد عام قیدی کی طبی بنیاد پر ریلیف کی درخواست ، حکومتی جواب نہ آنے پر عدالت برہم

اسلام آباد : سابق وزیراعظم  نوازشریف کےبعد عام قیدی بھی طبی بنیاد پرریلیف مانگنے لگے، سزائے موت کے قیدی کے خط پر حکومتی جواب نہ آنے پر چیف جسٹس اسلام آبادہائی کورٹ نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا تفصیلی حکم جاری کیاجائے گا۔

تفصیلات کے مطابق اسلام آباد ہائی کورٹ میں آنکھوں کےعلاج کیلئے سزائےموت کے قیدی کے خط پر سماعت ہوئی، چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے سماعت کی ، سماعت میں چیف جسٹس نے حکومتی جواب نہ آنے پر برہمی کا اظہار کیا۔

چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا انسانی حقوق کا مسئلہ ہے،میں تفصیلی حکم جاری کروں گا، عدالت کی سرزنش پرسرکاری وکیل نےجواب داخل کرانے کے لئے تین دن کی مہلت مانگی، چیف جسٹس کا کہنا تھا عدالت نے جواب کرانے کا حکم دیا تھا تو سرکاری وکیل نے کہا عدالت 3 دن کا وقت دے، بعد ازاں اسلام آبادہائیکورٹ نے سماعت ملتوی کر دی۔

گذشتہ روز سزائےموت کے قیدی نے چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ کو خط لکھا تھا ، قیدی خادم حسین کی جانب سےآنکھوں کےعلاج کیلئےخط لکھا ، خط میں استدعا کی تھی کہ بینائی کامسئلہ ہےعلاج کےلئےسہولت فراہم کی جائے۔

عدالت نے خط کودرخواست میں تبدیل کرتے ہوئے حکومت سے جواب طلب کرلیا تھا۔

مزید پڑھیں : نواز شریف کے بعد عام قیدیوں نے بھی ریلیف مانگنا شروع کردیا

یاد رہے لاہور ہائی کورٹ نے سابق وزیراعظم نوازشریف کو بیرون ملک جانے کے لیے حکومت کی جانب سے عائد کردہ انڈیمنٹی بانڈز کی شرط کو مسترد کرتے ہوئے غیر مشروط طور پر بیرون ملک جانے کی اجازت دی تھی ، فیصلے میں کہا گیا تھا کہ نوازشریف کو علاج کےغرض سے 4 ہفتوں کے لیے باہر جانے کی اجازت دی جاتی ہے اور اس مدت میں توسیع بھی ممکن ہے۔

اس سے قبل لاہور ہائی کورٹ میں جیلوں میں 10 ہزار بیمار قیدیوں نے طبی بنیاد پر رہائی کی درخواست دائر کی تھی ، درخواست میں استدعا کی گئی تھی کہ نوازشریف کی طرح بیمار قیدیوں کو طبی بنیاد پر ضمانت دی جائے۔

بعد ازاں لاہورہائی کورٹ نے درخواست چیف سیکریٹری پنجاب کو بھجوا دی تھی اورچیف سیکریٹری پنجاب کو درخواست پر فیصلے کی ہدایت کی تھی، عدالت میں دائر کی گئی درخواست میں کہا گیا تھا کہ جیلوں میں 10 ہزارسے زائد قیدی مختلف بیماریوں میں مبتلا ہیں، جیلوں میں قیدیوں کو علاج کی مناسب سہولتیں میسر نہیں ہیں۔

fb-share-icon0
Tweet 20

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں