The news is by your side.

Advertisement

ممنوعہ فنڈنگ کیس میں الیکشن کمیشن پر جانبداری کا الزام، پی ٹی آئی کی درخواست پرڈویژن بنچ تشکیل

اسلام آباد :چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ نے پی ٹی آئی ممنوعہ فنڈنگ کیس میں الیکشن کمیشن پر جانبداری کے الزام پر سماعت کیلئے ڈویژن بنچ تشکیل دے دیا۔

تفصیلات کے مطابق اسلام آباد ہائی کورٹ میں ممنوعہ فنڈنگ کیس میں پی ٹی آئی کی الیکشن کمیشن کے خلاف درخواست پر سماعت ہوئی، چیف جسٹس اسلام آبادہائیکورٹ نے درخواست پر سماعت کی۔
.
وکیل پی ٹی آئی نے بتایا کہ پی ٹی آئی نےدیگر سیاسی جماعتوں کافنڈنگ کیس بھی دائر کیا، جس پر چیف جسٹس نے استفسار کیا کیا دیگر سیاسی جماعتوں کے اکاؤنٹس کی چھان بین نہیں ہورہی۔

وکیل شاہ خاور نے بتایا کہ دیگرسیاسی جماعتوں کے اکاؤنٹس کیسز بہت سست چل رہےہیں، پی ٹی آئی نےدیگر پارٹیوں کی بھی فارن فنڈنگ انکوائری کی درخواست دی، دیگر پارٹیوں کی انکوائری الیکشن کمیشن سست رفتاری سے کررہا ہے۔

وکیل پی ٹی آئی کا کہنا تھا کہ الیکشن کمیشن صرف پی ٹی آئی کو سنگل آؤٹ کررہا ہے، جس پر چیف جسٹس نے استفسار کیا کیا آپ نے ممنوعہ فنڈنگ کیس میں انٹرا کورٹ اپیل دائر کررکھی ہے، وکیل نے بتایا کہ انٹرا کورٹ اپیل پر ڈویژن بینچ میں آج سماعت ہے۔

عدالت نے کہا پی ٹی آئی کی کارروائی کی درخواست انٹرا کورٹ اپیل کے ساتھ سنیں گے۔

چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ یہ آئینی معاملہ ہے اس پر ڈویژن بنچ تشکیل دے دیتے ہیں ، جس کے بعد عدالت نے الیکشن کمیشن کے خلاف درخواست پر ڈویژن بینچ میں مقرر کرنے کا حکم دیتے ہوئے آج ہی کے دن کے لیے کیس دوبارہ مقرر کر دیا۔.

یاد رہے پی ٹی آئی نے درخواست میں دیگر 17 سیاسی جماعتوں کے کیسز کا فیصلہ ایک ماہ میں کرنے کی استدعا کرتے ہوئے کہا تھا کہ الیکشن کمیشن پی ٹی آئی کے خلاف جانبداری کا مظاہرہ کر رہا ہے ،الیکشن کمیشن دیگر17 سیاسی جماعتوں کے اکاؤنٹس کی اسکروٹنی سے انکاری ہے۔

درخواست میں کہا گیا تھا کہ الیکشن کمیشن کے رویے سے پی ٹی آئی متاثرہ پارٹی ہے، الیکشن کمیشن کو17 سیاسی جماعتوں کےاکاؤنٹس کی چھان بین کاحکم دیاجائے ، درخواست

حکم دیا جائےاسٹیٹ بینک تمام سیاسی جماعتوں کےاکاؤنٹس کی چھان بین کرے ،اسٹیٹ بینک کی رپورٹ کے بعد اکاؤنٹس کی تفصیلات عام کرے، اور الیکشن کمیشن کو ہدایت کی جائے پی ٹی آئی کےساتھ جانبدارانہ رویہ نارکھے۔

درخواست میں الیکشن کمیشن کے علاوہ ن لیگ ، پی پی پی ، ایم کیو ایم ، جماعت اسلامی ،عوامی مسلم لیگ، تحریک لبیک سمیت سیاسی جماعتوں کو فریق بنایا گیاہے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں