The news is by your side.

Advertisement

پارٹی صدرکیس اسلام آبادہائیکورٹ نے نوازشریف کو آخری مہلت دیدی

اسلام آباد : اسلام آباد ہائیکورٹ نے نوازشریف کو ن لیگ کا صدر بنانے کیخلاف درخواست پر نوازشریف کے رویے پر اظہار برہمی کرتے ہوئے انھیں آخری نوٹس جاری کردیا اور حکم دیا ہے کہ نوازشریف نے جواب نہیں دیا تو یکطرفہ فیصلہ دینگے۔

تفصیلات کے مطابق نوازشریف کون لیگ کاصدربنانےکیخلاف درخوست کی سماعت اسلام آباد ہائیکورٹ کے سنگل رکنی بینچ جسٹس عامرفاروق نے کی۔

سماعت کے دوران اسلام آبادہائیکورٹ نے نوازشریف کے رویے پر برہمی کا اظہار کیا اور حکم دیا کہ نوازشریف نےجواب نہیں دیاتویکطرفہ فیصلہ دینگے۔

اسلام آبادہائیکورٹ نے نوازشریف کو آخری نوٹس جاری کردیا۔

وزارت قانون نے ہائیکورٹ میں جواب جمع کرا دیا جبکہ اسٹیبلشمنٹ، کابینہ ڈویژن نےآج بھی جواب جمع نہیں کرایا، جس پر عدالت نے
اسٹیبلشمنٹ ڈویژن،الیکشن کمیشن کمیشن کوپانچویں بارنوٹس جاری کردیا۔

درخواست گزار وکیل مخدوم نیازانقلابی نے درخواست میں موقف اختیار کیا ہے کہ جس سینیٹر نےایک ووٹ سے بل پاس کرایا اسے فارغ کر دیا گیا، سپریم کورٹ فیصلوں کےمطابق نااہلی تاحیات ہے، عدلیہ پارلیمنٹ انتظامیہ سےبالاآئین ہے۔

مخدوم نیازانقلابی ایڈووکیٹ نے مزید کہا کہ آئین سے بالا قرآن اور سنت ہے، نااہل شخص کی ذات کیلئے پارلیمنٹ قانون سازی نہیں کرسکتی، پارلیمنٹ نےنااہل شخص کیلئے رعایت دے کر آرٹیکل190کی خلاف ورزی کی.

یاد رہے کہ قومی اسمبلی اور سینیٹ سے انتخابی اصلاحات بل 2017ء کی منظوری اور  صدارتی انتخاب اور پارٹی آئین میں ترمیم  کے بعد مسلم لیگ ن نے نواز شریف کو دوبارہ پارٹی کا صدر منتخب کرلیا تھا۔


مزید پڑھیں : نوازشریف بلامقابلہ مسلم لیگ ن کے صدر منتخب


بل کی شق 203 میں کہا گیا ہے کہ ہر پاکستانی شہری کسی بھی سیاسی جماعت کی رکنیت اور عہدہ حاصل کرسکتا ہے بلکہ اس کا صدر بھی بن سکتا ہے۔

خیال رہے مسلم لیگ ن کے صدر منتخب ہونے کے بعد نواز شریف اہلیہ کی عیادت کیلئے لندن روانہ ہوگئے تھے۔

واضح رہے کہ پاناما کیس کے فیصلے میں سپریم کورٹ نے سابق وزیراعظم نوازشریف کو نااہل قرار دیا تھا، جس کے بعد الیکشن کمیشن آف پاکستان نے مسلم لیگ ن کو ہدایات جاری کی تھیں‌ کہ وہ نوازشریف کی جگہ نئے پارٹی سربراہ کا انتخاب کرے۔


اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی فیس بک وال پر شیئر کریں۔

Print Friendly, PDF & Email

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں