The news is by your side.

Advertisement

پیکا آرڈیننس پر تحریری حکم نامہ جاری

اسلام آباد ہائی کورٹ نے پیکا آرڈیننس پر تحریری حکم نامہ جاری کر دیا ہے۔ اٹارنی جنرل نے عدالت میں پیکا آرڈیننس پر تفصیل سے دلائل دیے۔

جاری کردہ تحریری حکم نامے کے مطابق اٹارنی جنرل نے عدالت سے ایکٹ سے متعلق وقت مانگا ہے، اٹارنی جنرل نے کہا کہ حکومت گرفتاری کے اختیارات پر غور کر رہی ہے، پیکا آرڈیننس آئین کے تحت بنیادی حقوق سے مطابقت نہیں رکھتا۔

حکم نامے میں کہا گیا کہ امید ہے کہ پیکا آرڈیننس پر حکومت اختیارات کے غلط استعمال کو روکے گی، آئین کے آرٹیکل 19 اور 19 اے کے تحت بنیادی حقوق کی ضمانت دی گئی، پہلی نظر میں ایسا لگتا ہےکہ ترامیم کا ممکنہ اثر آزادی اظہار کی حوصلہ شکنی پر ہوگا۔

تحریری حکم نامے میں کہا گیا کہ عوامی اداروں کو اپنی ساکھ پر حملوں کے خلاف تحفظ کی ضرورت نہیں، لوگوں کی طرف سے سخت جانچ اور احتساب سے استثنیٰ کا دعویٰ نہیں کر سکتے، آرٹیکل 89 کے تحت دائرہ اختیاری پیشگی شرائط پر بھی جواز ہونا ضروری ہے۔

حکم نامے میں مزید کہا گیا کہ جواز پیش کرنا ہوگا کہ ایسے حالات میں آرٹیکل 89 کے تحت اختیارات ضروری تھے، پارلیمنٹ کے خصوصی دائرہ اختیار میں قانون سازی کےعمل کو روکنا تھا، کیا بلا جواز خیانت آئین کے ساتھ دھوکا دہی نہیں ہوگی۔

عدالتی حکم نامے میں کہا گیا کہ اٹارنی جنرل سے توقع ہے کہ وہ آئندہ سماعت پر عدالت کو مطمئن کریں گے، عدالت 2016 کے ایکٹ کے تحت ہتک عزت کو مجرمانہ قرار نہیں دے سکتی، رجسٹرار آفس اس کیس کو 10 مارچ کے لئے مقرر کرے۔

ہائی کورٹ  کا پیکا آرڈیننس کے سیکشن 20 پر آئندہ سماعت تک حکم امتناع برقرار ہے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں