site
stats
پاکستان

گستاخانہ مواد سے متعلق کیس، فیس بک انتظامیہ تعاون نہ کرے تو ویب سائٹ بند کردی جائے، عدالت

اسلام آباد: سوشل میڈیا پرگستاخانہ مواد سے متعلق کیس میں جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے کہا کہ فیس بک انتظامیہ تعاون نہ کرے تو ویب سائٹ بند کردی جائے۔

تفصیلات کے مطابق سوشل میڈیا میں کائنات کی مقدس ترین شخصیات کی گستاخی کا معاملے پر اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے کیس کی سماعت کی، وفاقی سیکرٹری داخلہ، وفاقی سیکرٹری آئی ٹی، وفاقی سیکرٹری اطلاعات، ڈی جی ایف آئی اے، آئی جی پولیس اسلام آباد اور چیئرمین پی ٹی اے عدالت میں پیش ہوئے۔

وفاقی سیکرٹری داخلہ اور ڈی جی ایف آئی اے نے گستاخی میں ملوث ملزمان، سہولت کاروں، مالی معاونین اور حامی این جی او سے متعلق رپورٹ عدالت میں پیش کردی، اٹارنی جنرل آف پاکستان اور آئی ایس آئی کے ایک سینئر افسر بھی عدالتی حکم پر عدالت میں پیش ہوئے۔

فیس بک انتظامیہ تعاون نہ کرے تو ویب سائٹ بند کردی جائے

سماعت کے دوران جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے سیکرٹری داخلہ سے استفسار کیا کہ کیس میں پیش رفت بتائیں ، یہ بہت ہی حساس معاملہ ہے، میں آپ کا احترام کرتا ہوں فیس بک انتظامیہ تعاون نہ کرے تو ویب سائٹ بند کردی جائے، فیس بک پیسہ بھی ہم سے کما رہی ہے اور ہمیں ہی جوتیاں مار رہی ہے ، حساس معاملہ ہوگا تو کیا ہاتھ نہیں ڈالیں گے۔

جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ یہ پورے امت کے ایمان کا مسئلہ ہے، جب تک ادارے پاکستان حکومت کی امداد نہیں کرتے اس وقت تک فیس بک کو پاکستان میں بند کیا جائے، انڈیا کی بڑی مارکیٹ ہے اگر کوئی رام کرشنا کے حوالے سے کچھ فیس بک آجائے تو انڈیا جب اسٹینڈ لے سکتا ہے تو پاکستان کیوں نہیں ۔

حکومت ریفرنڈم کرالے کہ پاکستانی عوام کو سوشل میڈیا چاہئے یا ناموس رسالت

جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے کہا کہ کرکٹ تو ہمارا مذہب نہیں ، ایف آئی اے کارکردگی دیکھانے میں مکمل ناکام ہو چکی، حکومت کو ریفرنڈم کرنا چاہئیے کہ پاکستانی عوام کو سوشل میڈیا چاہئے یا ناموس رسالت پھر جس کو غلط فہمی ہے سب دور ہو جائے گا، اگر سیلفیاں اور ڈشز کی تصاویر فیس بک پر شیئر نہ کی گئیں تو کچھ نہیں ہو گا۔

عدالت نے سیکرٹری داخلہ سے جامع رپورٹ طلب کرلی ہے، سیکرٹری داخلہ نے عدالت سے پیر تک مہلت طلب کرتے ہوئے کہا کہ کچھ لوگوں کے نام ای سی ایل میں ڈال دیئے ہیں، وزارت داخلہ کی رپورٹ جو درخواست ایف آئی اے میں آ رہی ہیں، ان کی ایف آئی آر درج کر کے کارروائی شروع کر دی گئی ۔

بعد ازاں کیس کی سماعت پیر تک ملتوی کردی گئی۔


مزید پڑھیں : سوشل میڈیا پر توہین رسالت کے مرتکب افراد کے نام فوری طور پر ای سی ایل میں ڈال دیں، عدالت


یاد رہے کہ گذشتہ سماعت میں جج نے مقدمے میں معاونت کے لئے وزارت دفاع اور آئی ایس آئی افسر کو آئندہ سماعت پر طلب کرتے ہوئے حکم دیا تھا جو بھی سوشل میڈیا پر توہین رسالت کے مرتکب افراد کے نام فوری طور پر ای سی ایل میں ڈالیں۔

جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے ریمارکس میں کہا رام کہانی نہ سنائیں عملی کام بتائیں، ڈی جی ایف آئی اے عدالت میں کیوں موجود نہیں۔

Print Friendly, PDF & Email
20

Comments

comments

اس ویب سائیٹ پر موجود تمام تحریری مواد کے جملہ حقوق@2018 اے آروائی نیوز کے نام محفوظ ہیں

To Top