site
stats
پاکستان

اسلام آباد ہائیکورٹ نے عافیہ صدیقی کے وکیل سے ان کی رہائی کیلئے تجاویز مانگ لیں

اسلام آباد : ہائیکورٹ نے ڈاکٹر عافیہ صدیقی کے وکیل سے ان کی رہائی کے لیے تجاویز مانگ لیں۔

ڈاکٹرعافیہ صدیقی رہائی کیس کی سماعت آج جسٹس نورالحق قریشی پر مشتمل سنگل رکنی بنچ نے کی۔ عدالت میں ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی رہائی سے متعلق وزارت خارجہ امور اور وزارت داخلہ کی جانب سے رپورٹس پیش کی گئیں۔

وزارت خارجہ کا موقف تھا کہ امریکہ اور پاکستان کے درمیان قیدیوں کے تبادلے کا کوئی معاہدہ موجود نہیں ہے تاہم اس سلسلے میں خط و کتابت کا سلسلہ جاری ہے، ڈاکٹر عافیہ صدیقی کو پاکستان کی جانب سے تعینات وکیل ہر طرح کی قانونی مشاورت مہیا کر رہے ہیں۔

وزارت داخلہ کا کہنا تھا کہ ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی رہائی کا معاملہ وزارت خارجہ سے متعلق ہے تاہم وزارت ا س سلسلے میں ہر طرح کا تعاون فراہم کر ے گی۔ جس پر جسٹس نورالحق قریشی کا کہنا تھا کہ وزارت خارجہ امور اور داخلہ کے محکموں کا آپس میں کوئی رابطہ نہیں ہے۔ حکومت ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی رہائی سے متعلق کاوششوں کا ریکارڈ پیش کرے۔

انہوں نے ڈاکٹر عافیہ کے وکیل کو ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ آپ بین الاقوامی معاہدوں کی روشنی میں حکومت کو رہائی کے لیے تجاویز دیں۔ جس پر کیس کی سماعت پندرہ دن کے لیے ملتوی کر دی گئی، میڈیا سے گفتگو میں عافیہ صدیقی کے وکیل ڈاکٹر ساجد قریشی کاکہنا تھا کہ اوبامہ ڈاکٹر عافیہ صدیقی کو معاف کر سکتے ہیں۔ وزیرا عظم نواز شریف اوبامہ سے براہ راست بات کریں تو یہ معاملہ ایک روز میں حل ہو جائے گا۔

ان کا کہنا تھا کہ سعودی عرب، بھارت اور دیگر ممالک نے معاہدوں کی عدم موجودگی میں بھی امریکہ سے قیدی لے کر اپنے ممالک میں سزائیں دیں۔ فوزیہ صدیقی کا کہنا تھا کہ وزیراعظم نواز شریف کے میز پر ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی فائل پڑی ہے لیکن مہینوں گزرنے کے باوجود انھوں نے دستخط نہیں کئے۔ ان کا کہنا تھا کہ عافیہ صدیقی پر ظلم و تشدد کی انتہاء کی جارہی ہے اور اب تک صرف ایک دفعہ بات کر نے دی گئی ہے۔

Print Friendly, PDF & Email
20

Comments

comments

اس ویب سائیٹ پر موجود تمام تحریری مواد کے جملہ حقوق@2018 اے آروائی نیوز کے نام محفوظ ہیں

To Top