The news is by your side.

Advertisement

یوسف رضا گیلانی کی چیئرمین سینیٹ الیکشن کیخلاف اپیل باقاعدہ سماعت کیلئے منظور

اسلام آباد: ہائی کورٹ نے یوسف رضا گیلانی کی چیئرمین سینیٹ الیکشن کیخلاف اپیل باقاعدہ سماعت کیلئےمنظور کرتے ہوئے وفاقی حکومت،صادق سنجرانی، سینیٹ سیکرٹریٹ سمیت دیگر کو نوٹس جاری کردیا۔

تفصلات کے مطابق اسلام آباد ہائی کورٹ میں سنیٹر یوسف رضا گیلانی کی چیئرمین سینیٹ کے انتخابات کے خلاف انٹراکورٹ اپیل پر سماعت ہوئی، سماعت اسلام آباد ہائیکورٹ کے ڈویژن بنچ پر مشتمل جسٹس عامر فاروق اور جسٹس طارق محمود جہانگیری نے کی۔

یوسف رضا گیلانی کی جانب سے فاروق ایچ نائیک عدالت میں پیش ہوئے، فاروق ایچ نائیک نے کہا سنگل بنچ نے سینیٹ الیکشن سے متعلق درخواست خارج کی تھی، سنگل بنچ نے متعلقہ فورم سے رجوع کا حکم سنایا تھا، ڈویژن بنچ 12 مارچ کے چیئرمین سینیٹ کے انتخابات کالعدم قرار دے، عدالت چیئرمین سینیٹ کے 12 مارچ کا نوٹیفکیشن معطل کرے۔

فاروق ایچ نائیک کا کہنا تھا کہ درخواست میں وفاقی حکومت، صادق سنجرانی، سینیٹ سیکرٹریٹ سمیت دیگر کو فریق بنایا گیا ہے، 12 مارچ دو ہزار اکیس کو سینیٹ چیئرمین کے انتخابات منعقد ہوئے اور 2 مارچ کو یوسف رضا گیلانی نے بطور ممبر سینیٹ منتخب ہوا، چیئرمین سینیٹ کے انتخابات میں دھاندلی کی گئی۔

فاروق ایچ نائیک نے کہا پریزائڈنگ آفیسرکوصدرپاکستان نےالیکشن کیلئےنوٹیفائڈکردیاتھا، جس پر جسٹس عامر فاروق کا کہنا تھا کہ آرٹیکل69 سے آپ کیسےنکلیں گے۔

یوسف رضا گیلانی کے وکیل کا کہنا تھا کہ آرٹیکل69سےپہلےآرٹیکل10عدالت کوبتاناچاہتا ہوں، معاملہ اسمبلی کارروائی سےمتعلق نہیں چیرمین سینیٹ کےالیکشن سے ہے، چیرمین اورڈپٹی چیئرمین سینیٹ کیلئےکوئی مخصوص قانون نہیں ہے۔

فاروق ایچ نائیک نے مزید کہا کہ پارلیمنٹ کی کسی کارروائی کوعدالت میں چیلنج نہیں کیا، ہم نےصرف چیرمین سینیٹ الیکشن چیلنج کیاہے، پریزائڈنگ آفیسر ووٹ نہیں دےسکتا مگریہاں پرووٹ دیاگیا، 7 مستردووٹ پرسوال کیاگیا،پریزائڈنگ آفیسرنےجواب دیاعدالت جائیں، میں یوسف رضاگیلانی کاپولنگ ایجنٹ تھا۔

عدالت نے یوسف گیلانی کی چیئرمین سینیٹ الیکشن کیخلاف اپیل باقاعدہ سماعت کیلئےمنظور کرتے ہوئے وفاقی حکومت،صادق سنجرانی، سینیٹ سیکرٹریٹ ، سیکریٹری قانون،سیکریٹری پارلیمانی افیئرز،پریزائیڈنگ آفیسرسمیت دیگر کو نوٹس جاری کرکے27 اپریل تک جواب طلب کرلیا۔

Comments

یہ بھی پڑھیں