عائشہ گلالئی کی اسمبلی رکنیت معطل کرنے سے متعلق درخواست پر فیصلہ محفوظIHC
The news is by your side.

Advertisement

عائشہ گلالئی کی اسمبلی رکنیت معطل کرنے سے متعلق درخواست پر فیصلہ محفوظ

اسلام آباد : اسلام آبادہائی کورٹ نے عائشہ گلالئی کی اسمبلی رکنیت معطل کرنے سے متعلق درخواست پر فیصلہ محفوظ کر لیا، فیصلہ کچھ دیر میں سنائے جانے کا امکان ہے۔

تفصیلات کے مطابق اسلام آباد ہائی کورٹ میں جسٹس عامرفاروق نے عائشہ گلالئی کی اسمبلی رکنیت معطل کرنے سے متعلق درخواست پر کی، عدالت نے درخواست پر فیصلہ محفوظ کر لیا، جو کچھ دیر میں سنائے جانے کا امکان ہے۔

عائشہ گلالئی کےخلاف درخواست کلثوم خالق ایڈووکیٹ نے دائر کی، درخواست میں کہا گیا تھا عائشہ گلالئی کےعمران خان پرالزامات ثابت نہیں ہوئے، بغیرثبوت الزام لگاناعائشہ گلالئی کی نا اہلی کیلئےکافی ہے۔

درخواست گزار نے عائشہ گلالئی کی نااہلی کا نوٹی فکیشن جاری کرنے کی استدعا کی تھی۔

یاد رہے اس سے قبل پی ٹی آئی چیئرمین عمران خان نے عائشہ گلالئی کو پارٹی سے نکالنے کا فیصلہ کرتے ہوئے الیکشن کمیشن اور اسپیکر قومی اسمبلی سے بھی کارروائی کی درخواست کی تھی۔

عمران خان نے عائشہ گلالئی کو آخری نوٹس بھجواتے ہوئے نوٹس کی کاپی اسپیکر قومی اسمبلی ،چیف الیکشن کمیشن کو بھی بھجوا دی تھی۔

سربراہ تحریک انصاف کا کہنا تھا کہ عائشہ گلالئی کیخلاف آرٹیکل63 اے کے تحت کارروائی عمل میں لائی جائے، معطلی کے بعد شوکازنوٹس کا جواب دینے میں بھی ناکام رہیں ہیں

واضح رہے کہ عائشہ گلالئی نے تحریک انصاف چھوڑنے کا اعلان کیا اور پریس کانفرنس کرتے ہوئے پی ٹی آئی پر سنگین الزام جبکہ عمران خان اور رہنماؤں کے کردار پرانگلی اٹھادی تھی۔


مزید پڑھیں :  تحریک انصاف میں خواتین کی عزت محفوظ نہیں، عائشہ گلالئی


عائشہ گلالئی نے کہا تھا کہ پارٹی میں عزت دارخواتین کی عزت نہیں، چئیرمین خود بھی خواتین کی عزت نہیں کرتے، پارٹی میں اخلاقیات نہیں اس لیے چھوڑنے کا فیصلہ کیا۔

انہوں نے الزام عائد کیا تھا کہ تحریک انصاف کے چیئرمین اور قیادت خواتین کارکنان کو نازیبا میسجز کرتی ہے، جس کی وجہ سے کئی خواتین کارکنان نالاں ہیں، میں این اے ون کا ٹکٹ نہیں مانگا، نہ ہی جلسے میں تقریر کا معاملہ تھا۔


اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی وال پر شیئر کریں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں