The news is by your side.

سیکیورٹی کے نام پر موبائل فون سروس بند کرنے کے حوالے سے فیصلہ محفوظ

اسلام آباد : اسلام آباد ہائیکورٹ نے سیکیورٹی کے نام پر موبائل فون سروس بند کرنے کے حوالے سے فیصلہ محفوظ کرلیا ، جو کچھ ہی دیر میں سنایا جائے گا۔

تفصیلات کے مطابق اسلام آباد ہائیکورٹ کے ڈویژن بنچ پر مشتمل جسٹس عامر فاروق اور محسن اختر کیانی نے سیکیورٹی کے نام پر موبائل فون سروس بندش سے متعلق سنگل رکنی بنچ کے فیصلے کے خلاف پی ٹی اے کی جانب سے انٹرا کورٹ اپیل پر سماعت کی۔

سماعت کے دوران تمام موبائل کمپنیوں کے وکلا بھی اور پی ٹی اے کی جانب سے بیرسٹر منور اقبال عدالت میں پیش ہوئے۔

بیرسٹر منور اقبال نے اپنے دلائل میں کہا کہ اسلام آباد میں سیکورٹی ناگفتہ ہے، 23 مارچ کا پروگرام بھی آ رہا ہے، عدالت سنگل رکنی بنچ کے فیصلے کو کالعدم قرار دے۔

وکیل کا مزید کہنا تھا کہ ہائیکورٹ کے سنگل رکنی بنچ کے فیصلے کے بعد موبائل فون سروسز بند کرنے کا اختیار اب حکومت کے پاس نہیں ہے۔

عدالت نے دلائل سننے کے بعد موبائل فون سروس بند کرنے کے حوالے سے فیصلہ محفوظ کرلیا ، جو کچھ ہی دیر میں سنایا جائے گا۔


مزید پڑھیں : سیکورٹی کے نام پر موبائل فون سروس کی بندش غیر قانونی قرار


یاد رہے کہ اسلام آباد ہائیکورٹ کے سنگل رکنی بنچ نے موبائل فون سروس کی بندش غیر قانونی قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ اور کہا کہ وفاق،اتھارٹی کی جانب سے موبائل سروس بند کرنا اختیارات سے تجاوزہے۔

جس کے بعد پی ٹی اے کی جانب سے سنگل رکنی بنچ کے فیصلے کے خلاف انٹرا کورٹ اپیل دائر کی گئی تھی۔

خیال رہے کہ اسلام آباد ہائی کورٹ میں موبائل فون کمپنیز اور شہری کی جانب سے درخواستیں دائر کی گئی تھیں ، جس میں موقف اپنایا گیا تھا کہ وفاقی دارالحکومت میں سیکیورٹی کے نام پر سروس بند ہوناشہریوں کی حق تلفی ہے، موبائل فون سروس کی بندش پاکستان ٹیلی کمیونی کیشن (ری آرگنائزیشن) ایکٹ 1996ءکی خلاف ورزی ہے۔

درخواست میں استدعا کی گئی تھی کہ حکومت کی جانب سےموبائل سروس کی معطلی کے اقدام کوغیر قانونی قرار دیا جائے۔

پی ٹی اے نے جواب میں کہا تھا کہ پی ٹی اےازخودموبائل سروس بند نہیں کرتی بلکہ حکومت کی ہدایت ہوتی ہے، جبکہ وفاق کی جانب سے جواب میں کہا گیا تھا کہ حکومت ٹیلی کام ایکٹ کی دفعہ 54(2) کے تحت سیکورٹی حالات کے پیش نظر موبائل فون سروس بند کرنے کا اختیار رکھتی ہے۔


خبر کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کمنٹس میں کریں، مذکورہ معلومات کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچانے کےلیے سوشل میڈیا پرشیئر کریں۔

Print Friendly, PDF & Email

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں