The news is by your side.

Advertisement

فیصل واوڈا کی تاحیات نااہلی فیصلے کیخلاف درخواست پر فیصلہ محفوظ

اسلام آباد : اسلام آباد ہائی کورٹ نے تحریک انصاف کے رہنما فیصل واوڈا کی تاحیات نااہلی فیصلے کیخلاف درخواست پر فیصلہ محفوظ کرلیا۔

تفصیلات کے مطابق اسلام آباد ہائی کورٹ میں تحریک انصاف کے رہنما فیصل واوڈاکی الیکشن کمیشن کےفیصلےکےخلاف درخواست پر سماعت ہوئی ، سماعت اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے کی۔

فیصل واوڈاکی جانب سےوسیم سجادایڈووکیٹ عدالت میں پیش ہوئے ، وسیم سجاد ایڈووکیٹ نے دلائل میں کہا کہ الیکشن کمیشن نااہلی کا فیصلہ دینے کا مجازنہیں تھا اور فیصلےکی کوئی قانونی حیثیت نہیں، ہائی کورٹ الیکشن کمیشن کا 9فروری 2022 کا فیصلہ کالعدم قرار دے۔

ایڈووکیٹ وسیم سجاد نے الیکشن کمیشن کی جانب سے جاری فیصلے کو پڑھ کر سنایا، وکیل نے کہا کہ الیکشن کمیشن نے فیصل واوڈا کو تاحیات نااہل قرار دیا، جعلی بیان حلفی اوردہری شہریت پر فیصل واوڈا کو نااہل کیا گیا۔

فیصل واوڈا کے وکیل کا کہنا تھا کہ الیکشن کمیشن نے فیصل واوڈاکو صادق اورامین قرار نہیں دیا، الیکشن کمیشن کورٹ نہیں ہے، ایک کمیشن ہے۔

وسیم سجاد ایڈووکیٹ نےسپریم کورٹ کےدوفیصلوں کاحوالہ دیتے ہوئے کہا الیکشن کمیشن کاکام شفاف الیکشن کرانا ہے، جس پر چیف جسٹس اسلام آبادہائی کورٹ نے کہا 3سال تک کیس چلتا رہا، فیصل واوڈا نے کب دہری شہریت چھوڑی اورالیکشن کی تاریخ بتا دیں۔

چیف جسٹس نے وسیم سجاد سے استفسار کیا کہ یہ بتائیں انکوائری کس نے کرنی ہے، جس پر وسیم سجاد نے بتایا کہ الیکشن کمیشن کو انکوائری کا اختیار ہے۔

چیف جسٹس نے استفسار کیا کیا الیکشن کو انکوائری کرکے معاملہ سپریم کورٹ بھیجنا چاہیے تھا؟ جسٹس اطہر من اللہ نے سپریم کورٹ کے 5 رکنی بینچ کے فیصلےکاحوالہ دیا۔

چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ کی ججمنٹ سے باہر یہ عدالت نہیں جا سکتی، سپریم کورٹ کے5 رکنی بینچ نےجھوٹےبیان حلفی پر فیصلہ دیا ، سپریم کورٹ کے 5 رکنی بینچ کے فیصلے کو پڑھ لیں۔

وکیل درخواست گزار نے کہا ہم نے الیکشن کمیشن کا 9 فروری کا نوٹیفکیشن چیلنج کیا ہے، چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ سپریم کورٹ کا کونسا فیصلہ ہے وہ دکھائیں؟ وسیم سجاد ایڈووکیٹ نے بتایا نااہلی کافیصلہ آئینی عدالت ہی کرسکتی ہے وہ بھی سننے کا موقع دیں گے۔

چیف جسٹس نے استفسار کیا کیس میں کٹ آف ڈیٹ کیا تھی ؟ وکیل درخواست گزار نے بتایا کہ جون 2018 میں کاغذات نامزدگی ہوئی تھی۔

عدالت کا کہنا تھا کہ الیکشن کمیشن نےاس فیصلے میں ایسی کیا غلطی کی وہ بتائیں، عسپریم کورٹ نے کہا تھا بیان حلفی جھوٹا نکلا تونتائج سنگین ہوں گے۔

عدالت نے استفسار کیا یہ بتائیں جمع کردہ بیان حلفی جھوٹا نہیں؟ کیا اس غلط بیان حلفی کی انکوائری سپریم کورٹ کرتی؟ جس پر وکیل نے کہا سوال یہ ہےکیا الیکشن کمیشن تاحیات نااہلی کافیصلہ کرسکتاہے؟

عدالت نے کہا کیس میں ساری چیزیں درخواست گزار پر ہیں انہوں نےدکھانی ہوتی ہیں، غلط بیانی یاجھوٹابیان حلفی جمع کرنے پر توہین عدالت ہوگی۔

اسلام آباد ہائی کورٹ کا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ کے 5رکنی بینچ کے فیصلے کویہ عدالت کیا کرے؟ ثابت ہوتا بیان حلفی جھوٹا ہے تو توہین عدالت کی کارروائی شروع ہوجاتی، جس پر وکیل کا کہنا تھا کہ جھوٹے بیان حلفی پرسپریم کورٹ فیصلے میں توہین عدالت کا لفظ نہیں۔

فیصل واوڈا کے وکیل نے سپریم کورٹ کے تاحیات نااہلی کیس کافیصلہ پڑھ کر سنایا ، چیف جسٹس نے کہا سپریم کورٹ کے فیصلے پرعمل کیسے ہو سکتا ہے، عدالت کوبتایا۔

وکیل وسیم سجاد نے بتایا سپریم کورٹ کےفیصلےمیں نتائج کا کوئی ذکر نہیں ہے، جس پر چیف جسٹس نے کہا فیصل واوڈا بیان حلفی میں سچ بولتے توبہتر ہوتا تو وسیم سجاد ایڈووکیٹ کا کہنا تھا کہ الیکشن کمیشن ایک مدت کےلیےنااہل کرتا توشایدہم مان جاتے۔

چیف جسٹس نے کہا عدالت کوبتایا جائے سپریم کورٹ کی ججمنٹ سےعدالت کیسے نکلے، کیا درخواست گزار نے کوئی ریننشن سرٹیفکیٹ جمع کیا تھا ؟ جس وکیل درخواست گزار نے کہا نہیں درخواست گزار نے ریننشن سرٹیفکیٹ نہیں جمع کرایا۔

عدالت نے استفسار کیا لوگوں سے غلطیاں ہو جاتی ہیں، اگر ریننشن سرٹیفکیٹ دیا جاتا تو کیا جاتا؟ وکیل کا کہنا تھا کہ کس نے کیا شواہد دیے ہیں وہ صحیح ہے یا غلط، شواہد سے پتہ چلتا ہے۔

فیصل واوڈا کے وکیل نے سپریم کورٹ کے مختلف فیصلوں کا حوالہ دیتے ہوئے سپریم کورٹ کے دو مزید فیصلے پڑھ کر سنائے اور کہا
ہم ایک آئینی ادارے میں آئے ہیں۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ سپریم کورٹ کافیصلہ ایک قانون کی حیثیت رکھتا ہے، کوئی سپریم کورٹ میں جھوٹا بیان حلفی دے تو پھر اس کے لیے کیا ہوگا؟ سپریم کورٹ اپنے فیصلے کی مزید وسیع کر سکتی ہے۔

وکیل وسیم سجاد نے بتایا کہ فیصل واوڈا نے اپنی دہری شہریت واپس کر دی ، جس پر چیف جسٹس اطہر من اللہ کا کہنا تھا کہ الیکشن کمیشن میں جھوٹ سپریم کورٹ میں جھوٹے بیان جیساہے، سپریم کورٹ کی 5 رکنی بنچ کا فیصلہ واضح ہے۔

عدالت نے ریمارکس میں کہا رٹ پٹیشن میں آئے ہیں، اگر ہائی کورٹ تاحیات نااہل قراردےتوپھر؟ وکیل کا کہنا تھا کہ عدالت تاحیات نااہل کرتی ہے توکس بنیاد پرفیصلہ دے گی؟

عدالت نے سوال کیا کہ سپریم کورٹ فیصلے میں کوئی جھوٹا بیان حلفی جمع کرتا ہے تونتائج کیاہونگے؟ آپ کہنا چاہ رہے الیکشن کمیشن انکوائری کرکے پراسیکوشن میں بھیج دے؟

جس پر وکیل نے دلائل میں کہا کیا الیکشن کمیشن کسی کو تاحیات نااہل کرسکتا ہےاورکس بنیاد پر؟ کیا درخواست گزار عدالت کے سامنے رینیوسیشن سرٹیفکیٹ جمع کرسکتا ہے؟

وکیل درخواست گزار نے بتایا کہ درخواست گزار کا پاسپورٹ ختم ہوچکا، نادرا سے سرٹیفکیٹ لیا گیا، سپریم کورٹ نےفیصلہ دیا 62 ون ایف پرجوآئے گا وہ تاحیات نااہلی ہوگی، اس کیس میں تو 62 ون ایف لگتا ہی نہیں، جھوٹا بیان حلفی ہے توقومی اسمبلی کی حد تک نااہلی ہوسکتی ہے۔

عدالت کا کہنا تھا کہ عام کیس نہیں، سپریم کورٹ کے 5 رکنی بینچ کے فیصلے کا کیا کریں ؟ سپریم کورٹ کے 5رکنی بینچ کیس کوجسٹس منیب اختر نے ڈسکس کیا۔

اسلام آباد ہائی کورٹ نے فیصل واوڈاکی الیکشن کمیشن کےفیصلے کے خلاف درخواست قابل سماعت ہونے پر فیصلہ محفوظ کرلیا۔

Comments

یہ بھی پڑھیں