The news is by your side.

Advertisement

اسلام آباد ہائیکورٹ حملہ کیس ، ملوث وکلاء کے معطل لائسنس بحال

اسلام آباد : اسلام آباد ہائیکورٹ نے حملہ کیس میں ملوث وکلاء کے معطل لائسنس بحال کر دیے اور وکلاء کے خلاف کمپلینٹس بار کونسلز کو بھیجنے کا فیصلہ کرلیا۔

تفصیلات کے مطابق اسلام آباد ہائی کورٹ چیف جسٹس اطہر من اللہ کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نےہائی کورٹ حملہ کیس کا تحریری فیصلہ جاری کردیا۔

جس میں اسلام آباد ہائیکورٹ نے وکلاء کے معطل لائسنس بحال کر دیے، عدالت نے کہا کہ وکیل شعیب شاہین کی 90 روز میں کمپلینٹ نہ بھیجنے پر مس کنڈکٹ کی کارروائی غیرموثر ہونے کی دلیل درست نہیں، قانون میں 90 روز کے اندر کمپلینٹ بار کونسل کو بھیجنے کا ذکر نہیں۔

اسلام آباد ہائیکورٹ کا کہنا تھا کہ ماضی میں انفرادی طور پر وکلاء کی جانب سے ایسے واقعات سامنے آئے، سپریم کورٹ اور ہائیکورٹ کے وکلاء کی اتنی تعداد کی طرف سے اس طرح کے واقعے کی مثال نہیں ملتی، ریگولیٹر کی جانب سے اس واقعے میں ملوث وکلاء کے خلاف کارروائی کی ضرورت ہے۔

اسلام آباد ہائیکورٹ حملہ کیس میں عدالت نے ملوث وکلاء کے خلاف کمپلینٹس بار کونسلز کو بھیجنے کا فیصلہ کرتے ہوئے رجسٹرار کو ملوث وکلاء کے خلاف کمپلینٹس بار کونسلز کو بھیجنے کا حکم دے دیا۔

عدالت نے کہا پاکستان بار کونسل میں رجسٹرڈ وکلاء کے خلاف کمپلینٹ پاکستان بار کونسل کو بھیجی جائے، اسلام آباد بار کونسل یا صوبائی بار کونسلز میں رجسٹرڈ وکلاء کے خلاف کمپلینٹس وہاں بھیجی جائیں۔

فیصلے میں کہا گیا رجسٹرار اسلام آباد ہائیکورٹ کمپلینٹس کے ساتھ موجود شواہد بھی بار کونسلز کو بھیجیں، بار کونسلز متعلقہ وکلاء کو قانون کے مطابق حق سماعت فراہم کریں۔

عدالت نے کہا کہ بار کونسلز اسلام آباد ہائیکورٹ کی کسی ابزرویشن سے متاثر نہ ہوں، اسلام آباد ہائیکورٹ کمپلینٹس ارسال کرنے کے فیصلے کے ساتھ مس کنڈکٹ کارروائی نمٹاتی ہے۔

فیصلے میں کہا گیا کہ آٹھ فروری کا دن پاکستانی عدلیہ کی تاریخ میں سیاہ دن کے طور پر یاد رکھا جائے گا، آٹھ فروری کو وکلا نے ہائیکورٹ پر دھاوا بولا، پتھر برسائے اور چیف جسٹس چیمبر میں توڑ پھوڑ کی۔

تحریری فیصلے میں کہا گیا کہ وکالت ایک قدیم اور نوبل شعبہ ہے، بانی پاکستان بھی وکیل تھے، اعلی عدلیہ کے جج وکلاء میں سے ہی بنتے ہیں، آج کی بار مستقبل کے بنچ کی نرسری ہوتی ہے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں