The news is by your side.

Advertisement

اسلام آباد ہائی کورٹ نے پراپرٹی ٹیکس میں دو سو فیصد اضافے کا نوٹس معطل کردیا

اسلام آباد: ہائی کورٹ نے اسلام آباد کے شہریوں کےلئے پراپرٹی ٹیکس میں دو سو فیصد اضافے کا نوٹی فکیشن معطل کر دیا، عدالت نے مقدمے کی پیروی تک شہریوں کے خلاف کارروائی سے بھی روک دیا ۔

تفصیلات کے مطابق پیر کو اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس محسن اختر کیانی نے حکم امتناع جاری کردیا، درخواست جماعت اسلامی کے میاں اسلم نے دائر کی تھی۔

درخواست گزار کے مطابق میٹروپولیٹن کارپوریشن نے پراپرٹی ٹیکس پر دو سو فیصد اضافہ کیا ہے۔ اپنی اس درخواست میں جماعت اسلامی کے نائب امیر میاں محمد اسلم نے ایم سی آئی کے نوٹیفکیشن کو چیلنج کر رکھا ہے۔

ہائی کورٹ میں دائر کردہ درخواست میں موقف اختیار کیا گیاکہ میٹروپولیٹن کارپوریشن نےٹیکس میں دو سو فیصد اضافہ کر کے اپنے اختیارات سے تجاوز کیا ہے اور اس سے شہریوں کی مشکلات میں اضافہ ہوگا۔

درخواست کی سماعت کرتے ہوئے ہائی کورٹ نے ایم سی آئی، سی ڈی اے کو نوٹس جاری کرتے ہوئے دو ہفتے میں جواب طلب کرلیا ہے ۔ ہائی کورٹ نے کہاکہ آئندہ سماعت تک ایم سی آئی شہریوں کے خلاف کوئی کارروائی نہ کرے۔

عدالت نے سی ڈی اے کے ریوینیو ڈائریکٹر کو بھی خود پیش ہونے کا حکم صادر کرتے ہوئے کہا کہ فریقین اگلی سماعت سے قبل اپنے تحریری جواب عدالت کے روبرو جمع کرائیں۔

یاد رہے کہ ایم سی آئی نے پراپرٹی ٹیکس میں اضافے کی منظوری گزشتہ سال دسمبر میں دی تھی اور اسے رواں سال جولائی سے نافذ ہونا تھا ، تاہم نئے ٹیکس بل اس لیے نہیں جاری ہوسکے کہ اس بات کا تعین نہیں ہوپا رہا ہے کہ ڈائریکٹر ریوینیو آیا کہ ٹیکس بڑھانے کے مجا ز ہیں یا نہیں۔

رواں مالی سال کے فنانس بل کے تحت ایف بی آر کے مطابق چار سال سے پہلے فروخت کرنے پر 50 لاکھ کی پراپرٹی پر5 فیصد کیپیٹل گین ٹیکس ، ایک کروڑ کی پراپرٹی پر 10 فیصد کیپیٹل ٹیکس لاگو ہونا تھا۔

ڈیڑھ کروڑ روپے کی پراپرٹی پر 15 فیصد اور 2کروڑ روپے کی پراپرٹی پر 20 فیصد کیپیٹل گین ٹیکس لگے گا۔

اس وقت پراپرٹی ملکیت کے 3 سال کے اندر فروخت کرنے پر ٹیکس عائد ہے جب کہ 3 سال بعد پراپرٹی فروخت کرنے پر ٹیکس کی شرح صفر ہے، 30 جون کے بعد پراپرٹی ملکیت کے 10 سال کے اندر فروخت کرنے پر15 فیصد ٹیکس کی تجویز بھی دی گئی تھی۔

یاد رہے اس سے قبل ایف بی آرنےبائیس بڑےشہروں کیلئےجائیدادکی قیمتیں بڑھانےکافیصلہ کیا تھا ، جائیداد کی ایف بی آر قیمتیں یکم جولائی سے مارکیٹ ویلیو کی 85 فی صد ہو جائیں گی۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں