اسلام آباد : اسلام آباد ہائیکورٹ نے پولیس کی بغیر قانونی پراسس گرفتاری کو اغوا قرار دے دیا اور کہا انصاف کے ساتھ کھلواڑ ہو تو طے شدہ اصول ہے کہ کاروائی کالعدم ہوگی۔
تفصیلات کے مطابق اسلام آباد ہائیکورٹ نے پولیس کے اختیارات سے تجاوز پر بڑا حکم جاری کردیا۔
عدالت نے محمد وقاص، علیم سہیل اور اہلیہ ثنا سہیل کے اپنے خلاف درج مقدمہ خارج کرنے کے کیس کا تحریری فیصلہ جاری کیا۔
جس میں کہا گیا کہ ڈی آئی جی کی رپورٹ کے مطابق شوکاز نوٹس ملوث پولیس اہلکاروں کو جاری کئے جا چکے ،پراسس کا غلط استعمال اور انصاف کے ساتھ کھلواڑ ہو تو طے شدہ اصول ہے کہ کاروائی کالعدم ہوگی۔
عدالت کا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ طے کر چکی اگر ایف آئی آر کی بنیاد غیر قانونی ہو تو اس کے بعد ساری کاروائی ختم ہونی چائیے اور سپریم کورٹ نے یہ بھی طے کیا کہ کرمنل کاروائی کالعدم قرار دینے کا اسکوپ محدود ہے، عدالت کو غیر معمولی حالات میں استعمال کرنا چاہئے۔
تحریری فیصلے میں کہا گیا کہ لاہور اور بہاولپور سے خاتون اور کمسن بچوں کے اغوا کے معاملے پرعدالت نے حکم جاری کیا، سابق سی ای او پی آئی اے مشرف رسول کا شہری محمد وقاص اور علیم سہیل کے ساتھ لین دین تنازعہ میں حکم جاری ہوا۔
16 صفحات پر مشتمل تحریری فیصلہ اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس محسن اختر کیانی نے جاری کیا، جس میں محمد وقاص، علیم سہیل، ثنا سہیل اور ارحم وقاص کیخلاف پولیس کا مقدمہ خارج کر دیا۔
تحریری فیصلے میں آئی جی اسلام آباد کو جعلی پولیس مقابلے میں ملوث اہلکاروں کیخلاف کارروائی کا حکم دیتے ہوئے مبینہ جعلی پولیس مقابلے کے مرتکب اہلکاروں کو ایک ایک لاکھ روپے جرمانے کا حکم دیدیا۔
اسلام آباد پولیس اہلکار جرمانے کی رقم بطور تلافی مدعی ثناء سہیل کو ادا کریں گے۔
عدالت نے پولیس کو حکم دیاہے کہ خاتون کے ساتھ لائی گئی ملکیتی گاڑیاں، کیش اور جیولری واپس کی جائے، لاہور پولیس خاتون اور بچوں کے اغوا کے کیس میں ملزمان کیخلاف میرٹ پر تحقیقات کرے اور آئی جی اسلام آباد فیصلے پر عملدرآمد کرکے 30 روز میں رپورٹ پیش کریں۔
مقدمہ نمبر 653/25 اسلام آباد کے تھانہ ترنول میں پولیس مقابلے اور دیگر دفعات کے تحت درج کیا گیا تھا۔


