اسحٰق ڈار کی فرد جرم کے خلاف درخواست عدالت میں مسترد -
The news is by your side.

Advertisement

اسحٰق ڈار کی فرد جرم کے خلاف درخواست عدالت میں مسترد

اسلام آباد: وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کی ہائیکورٹ نے وفاقی وزیر خزانہ اسحٰق ڈار پر فرد جرم کے خلاف ان کی دائر کردہ درخواست مسترد کردی۔ وزیر خزانہ نے احتساب عدالت کے اقدام کو چیلنج کیا تھا۔

تفصیلات کے مطابق احتساب عدالت کی جانب سے عائد کی جانے والی فرد جرم کے خلاف وفاقی وزیر خزانہ اسحٰق ڈار کی درخواست اسلام آباد ہائیکورٹ نے مسترد کردی۔

اسحٰق ڈار کی جانب سے دائر کردہ درخواست کی سماعت 2 رکنی بینچ نے کی۔ جسٹس اطہر من اللہ نے فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ احتساب عدالت خود مختار ادارہ ہے، احتساب عدالت کی کارروائی روکنے کا اختیار ہائیکورٹ کو نہیں۔

وکیل صفائی کا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ نے پہلے جے آئی ٹی بنائی، پھر نیب ریفرنس کا حکم دیا جس پر عدالت نے کہا کہ سپریم کورٹ کو ہم کیسے ہدایت کر سکتے ہیں؟ اسحٰق ڈار اپنی درخواست احتساب عدالت میں کیوں نہیں دیتے۔

مزید پڑھیں: فرد جرم کے بعد اسحٰق ڈار کا وزارت پر رہنا شرمناک، تحریک انصاف

عدالت کا مزید کہنا تھا کہ احتساب عدالت صحیح سمت میں جا رہی ہے۔ نیب آرڈیننس کے مطابق 30 دن میں کیس کا فیصلہ ہوجائے گا۔

یاد رہے کہ 27 ستمبر کو احتساب عدالت نے آمدن سے زائد اثاثوں کے نیب ریفرنس میں وزیر خزانہ اسحٰق ڈار پر فرد جرم عائد کی تھی تاہم اسحٰق ڈار نے صحت جرم سے انکار کردیا تھا۔

اسحٰق ڈار کا کہنا تھا کہ عدالت میں اپنی بے گناہی ثابت کروں گا اور الزامات کا دفاع کروں گا۔

اسحاق ڈار کے تمام بینک اکاؤنٹس بھی منجمد کردیے گئے تھے اور تمام جائیداد کی خرید و فروخت اور منتقلی پر پابندی عائد کردی گئی تھی۔

بعد ازاں اسحٰق ڈار نے فرد جرم عائد کرنے کے فیصلے کے خلاف اسلام آباد ہائیکورٹ میں درخواست دائر کردی تھی۔

درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا تھا کہ 27 ستمبر کے حکم نامہ میں قانونی تقاضے پورے نہیں کیے گئے، مذکورہ حکم پر نظر ثانی کی جائے۔


اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی فیس بک وال پر شیئر کریں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں