اسلام آباد ہائی کورٹ نے خواجہ حارث کےاعتراض کودرست قرار دے دیا -
The news is by your side.

Advertisement

اسلام آباد ہائی کورٹ نے خواجہ حارث کےاعتراض کودرست قرار دے دیا

اسلام آباد : ملز ریفرنس میں واجد ضیاء کے بیان میں مبینہ تبدیلی کے معاملے پرعدالت نے احتساب عدالت کو ہدایات جاری کی ہے کہ خواجہ حارث کے اعتراضات کو ریکارڈ کا حصہ بنایا جائے۔

تفصیلات کے مطابق العزیزیہ اسٹیل ملزریفرنس میں واجد ضیاء کے بیان میں مبینہ تبدیلی سے متعلق نوازشریف کی درخواست پر جسٹس اطہرمن اللہ اور جسٹس محسن اخترکیانی پر مشتمل اسلام آباد ہائی کورٹ کے دو رکنی بینچ نے سماعت کی۔

اسلام آباد ہائی کورٹ میں سماعت کے آغاز پر عدالت نے ریمارکس دیے کہ 30 اگست کو احتساب عدالت کی کارروائی میں سوال کا بڑامسئلہ نہیں جس پرنیب پراسیکیوٹر نے کہا میں 5 منٹ میں بتا دیتا ہوں۔

جسٹس محسن اخترکیانی نے سوال کیا کہ نوازشریف کے وکیل کا کہنا ہے ایک سوال ڈیلیٹ کیا گیا؟ جس پر نیب پراسیکیوٹرنے جواب دیا کہ جی نہیں کوئی سوال ڈیلیٹ نہیں کیا گیا۔

جسٹس اطہرمن اللہ نے استفسار کیا کہ کسی سوال میں ترمیم کی گئی ہے؟ نیب پراسیکیوٹرسردار مظفرعباسی نے جواب دیا کہ جی نہیں ترمیم بھی نہیں کی گئی۔

سماعت کے دوران خواجہ حارث کی مداخلت پرنیب پراسیکیوٹر نے کہا کہ آپ سینئروکیل ہیں بار بار مداخلت مجھے پسند نہیں ہے، عدالت نے نوازشریف کے وکیل کو ہدایت کی دلائل مکمل ہونےدیں بعد میں بولیں۔

جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ جج نےقبول کیا ترمیم کی تفصلات میں جانا نہیں چاہتے، جج احتساب عدالت نے ترمیم کرنی تھی تووجہ لکھ لیتے۔

نوازشریف کے وکیل نے کہا کہ ہمارے اعتراض کوریکارڈ کا حصہ نہیں بنایا گیا، اسلام آباد ہائی کورٹ نے ریمارکس دیے کہ عدالت کواختیار ہے اعتراض اسی وقت یا بعد میں ریکارڈ کا حصہ بنائے۔

اسلام آباد ہائی کورٹ نے نوازشریف کے وکیل کے اعتراض کو درست قراردیتے ہوئے حکم دیا کہ جج احتساب عدالت 30 اگست کی سماعت میں اعتراض ریکارڈ کاحصہ بنائیں۔

عدالت میں گزشتہ روز خواجہ حارث نے دلائل دیتے ہوئے کہا تھا کہ میرا موقف ہے کہ نوازشریف اور حسین نوازنے رپورٹ پیش نہیں کی۔

جسٹس اطہرمن اللہ نے ریمارکس دیے تھے کہ رپورٹ پیش کی گئی تو جے آئی ٹی رپورٹ میں موجود ہوگا۔ سابق وزیراعظم نوازشریف کے وکیل نے کہا تھا کہ جے آئی ٹی سربراہ واجد ضیاء نے جو بیان دیا وہ لکھوایا گیا۔

خواجہ حارث نے دلائل دیتے ہوئے کہا تھا کہ 30 اگست کواحتساب عدالت نے قانونی تقاضے پورے نہیں کیے کیے، عدالت نے سوال نامے کے تحت کارروائی نہیں چلائی۔

جسٹس اطہرمن اللہ نے ریمارکس دیے تھے کہ نیب حکام کو کل سن لیتے ہیں، بعدازاں اسلام آباد ہائی کورٹ نے نیب کو نوٹس جاری کیا تھا۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں