نواز شریف کا علاج کب سے ہو رہا ہے اور میڈیکل بورڈ کس کے حکم پر اور کیوں بنایا گیا؟ تمام تفصیل طلب
The news is by your side.

Advertisement

نواز شریف کا علاج کب سے ہو رہا ہے اور میڈیکل بورڈ کس کے حکم پر اور کیوں بنایا گیا؟ تمام تفصیل طلب

اسلام آباد : اسلام آباد ہائی کورٹ نےنواز شریف کےعلاج کی تمام تفصیل طلب کرلیں اور کہا بتایا جائے نواز شریف کا علاج کب سے ہو رہا ہے اور میڈیکل بورڈ کس کے حکم پر اور کیوں بنایا گیا؟

تفصیلات کے مطابق اسلام آباد ہائی کورٹ میں جسٹس عامرفاروق اورجسٹس محسن اخترکیانی پرمشتمل بینچ نے سابق وزیراعظم نواز شریف کی جانب سے طبی بنیادوں پر ضمانت پر رہائی کی درخواست پر سماعت کی، نواز شریف کی جانب سے خواجہ حارث عدالت میں پیش ہوئے۔

وکیل نواز شریف نے کہا نواز شریف عارضہ قلب میں مبتلا ہے اور نواز شریف کو گردوں کا مرض بھی لاحق ہے، ان کو علاج کے لئے طبی بنیادوں پر ضمانت پر رہائی کا حکم جاری کیا جائے۔

وکیل نیب نے دلائل میں کہا عدالت کی جانب سے ابھی تک نوٹس نہیں ملا، جس پرجسٹس عامر فاروق کا کہنا تھا کہ آپ عدالت میں پہنچ گئے ہیں اس کا مطلب ہے نوٹس مل ہی گیا ہے آپ سمجھ لیں تو نیب کے وکیل نے مزید کہا نواز شریف کی درخواست قابل سماعت نہیں ہے۔

نواز شریف کو دل اور گردوں کا مرض لاحق ہے،ضمانت پر رہاکیاجائے، خواجہ حارث کے دلائل

عدالت نے استفسار کیا کس کے حکم پر نواز شریف کی میڈیکل بورڈ تشکیل دیا گیا، نواز شریف کے وکیل نے کہا نواز شریف کی چار میڈیکل رپورٹس جمع کرائی گئی ہیں جبکہ خواجہ حارث کی آئندہ سماعت جلد مقرر کرنے کی استدعا بھی کی۔

اسلام آباد ہائی کورٹ نے نواز شریف کےعلاج کی تمام تفصیل طلب کرلیں اور استفسار کیا نوازشریف کاعلاج کب سےہورہاہے؟میڈیکل بورڈکس کےحکم پراورکیوں بنایاگیا؟

عدالت نے نوازشریف کی طبی بنیادوں پرضمانت کی سماعت بارہ فروری تک ملتوی کردی اور آئندہ سماعت کے لئے ہوم ڈیپارٹمنٹ پنجاب کونوٹس جاری کردیا گیا ہے۔

دوسری جانب نوازشریف کی میڈیکل رپورٹ ہائی کورٹ میں جمع کرادی گئی، جس کے مطابق نواز شریف کو امراض قلب کی شکایت ہے اور بلڈ پریشر سمیت دیگر مسائل بھی ہیں ، علاج کے لیے ایسے اسپتال کی ضرورت پر زور ‌ ہے ، ہاں انتہائی نگہداشت ہوسکے۔

مزید پڑھیں : اسلام آباد ہائی کورٹ نے نوازشریف کی تمام میڈیکل رپورٹس طلب کرلیں

گذشتہ سماعت میں اسلام آباد ہائی کورٹ نے ضمانت کے لیے دائر درخواست پر سابق وزیراعظم نوازشریف کی تمام میڈیکل رپورٹس طلب کرتے ہوئے نیب اور سپرنٹنڈنٹ کوٹ لکھپت جیل کو نوٹسز جاری کردیئے تھے۔

وکیل صفائی نے موقف اختیار کیا ہے کہ نواز شریف عارضہ قلب میں مبتلا ہیں، گردوں کا مرض بھی لاحق ہے، ضمانت پر رہاکیاجائے۔

یاد رہے نوازشریف نے میڈیکل بنیاد پر ضمانت کےلئےدرخواست دائر کی تھی ، جس میں مؤقف اختیار کیا کہ نوازشریف کوانسانی ہمدردی اورضروری چیک اپ کیلئے ضمانت دی جائے، جیل میں ہونےکی وجہ سے ان کا پراپر چیک اپ نہیں ہوپارہا،عدالت جتنے مچلکے حکم کرگے جمع کرادیں گے۔

نواز شریف نے استدعا کی طبیعت ٹھیک نہیں، علاج کرانا چاہتا ہوں،ضمانت پررہائی دیں۔

مزید پڑھیں : نواز شریف کی  ٹیسٹ رپورٹس محکمہ داخلہ کو ارسال

خیال رہے  سابق وزیراعظم نواز شریف سروسز اسپتال میں زیر علاج ہے ، سی ٹی اسکین میں نواز شریف کے جسم کی شریانوں میں تنگی سامنے آئی ہے جبکہ بلڈ پریشر، شوگر، گردوں کا مسئلہ موجود ہے۔

ذرائع نے بتایا کہ نواز شریف کو عارضۂ قلب کا بھی پرانا مسئلہ ہے، میڈیکل بورڈ نے دل کے اسپتال منتقل کرنے کی سفارش بھی کی ہے۔

واضح رہے گزشتہ برس 24 دسمبر کو سابق وزیر اعظم نواز شریف کے خلاف العزیزیہ اسٹیل ملز اور فلیگ شپ ریفرنسز کا فیصلہ سنایا گیا تھا، فیصلے میں نواز شریف کو العزیزیہ ریفرنس میں مجرم قرار دیتے ہوئے گرفتار کیا گیا جبکہ فلیگ شپ ریفرنس میں انہیں بری کردیا گیا تھا۔

بعد ازاں ان کی درخواست پر انہیں راولپنڈی کی اڈیالہ جیل کے بجائے لاہور کی کوٹ لکھپت جیل منتقل کیا گیا تھا۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں