The news is by your side.

Advertisement

فیصل واوڈا کی نااہلی کیس کی کارروائی فوری روکنے کی استدعا مسترد

اسلام آباد : اسلام آباد ہائی کورٹ نے فیصل واوڈا کی نااہلی کیس کی کارروائی فوری روکنے کی استدعا مسترد کردی ، جسٹس عامرفاروق نے ریمارکس میں کہا میں سٹے نہیں دوں گا، عدالت فیصلہ کر چکی ہے کہ الیکشن کمیشن کا ریکارڈ دیکھ کر فیصلہ کر دیں گے۔

تفصیلات کے مطابق اسلام آباد ہائی کورٹ میں دوہری شہریت چھپانے پر فیصل واوڈا کی نااہلی کے لئے درخواست پر سماعت ہوئی ، سماعت اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس عامر فاروق نے کی۔

جسٹس عامر فاروق نے کہا عدالت کی جانب سوال کئے جاتے ہیں مگر آپ کو علم نہیں، پھر فیصل واوڈا کو بلا لیتے ہیں کیونکہ آپ کو معلوم ہی نہیں، جس پربیرسٹر جہانگیر جدون نے بتایا کہ فیصل واوڈا نے عام انتخابات سے قبل الیکشن کمیشن میں دوہری شہریت سے متعلق جھوٹا حلف نامہ جمع کروایا، اُس وقت فیصل واڈا امریکی شہریت کے حامل تھے، عدالت فیصل واڈا کی رکنیت بطور رکن قومی اسمبلی نااہل قرار دے۔

وکیل کا کہنا تھا کہ 2018 کے عام انتخابات میں حصہ لینے کے لئے فیصل واوڈا نے 11 جون 2018 کو الیکشن کمیشن میں کاغذات نامزدگی داخل کرائے تھے ، کاغذات نامزدگی جمع کراتے وقت فیصل واوڈا امریکی شہریت رکھتے تھے ، الیکشن کمیشن میں دوہری شہریت نہ رکھنے کا جھوٹا حلف نامہ جمع کرایا۔

بیرسٹر جہانگیر جدون نے کہا کہ کاغذات کی سکروٹنی کے وقت بھی فیصل واوڈا امریکی شہری تھے، ریٹرننگ آفسر نے 18 جون 2018 کو فیصل واوڈا کے کاغذات نامزدگی منظور کئے۔

22 جون 2018 کو امریکی شہریت ترک کرنے کے لئے کراچی میں امریکی قونصلیٹ میں درخواست دی، 25 جون 2018 کو منظور کی گئی اور فیصل واوڈا کو امریکی شہریت چھوڑنے کا سرٹیفکیٹ جاری ہوا۔

وفاقی وزیر فیصل واوڈا کی جانب سے عدالتی کارروائی روکنے کی درخواست کی گئی ، جس پر عدالت نے فیصل واوڈا کی کیس کی کارروائی فوری روکنے کی استدعا مسترد کر دی اور عدالتی کارروائی روکنے کی درخواست پر فریقین کو نوٹس جاری کردیئے۔

جسٹس عامرفاروق نے ریمارکس میں کہا میں سٹے نہیں دونگا، عدالت فیصلہ کر چکی ہے کہ الیکشن کمیشن کا ریکارڈ دیکھ کر فیصلہ کر دیں گے۔

عدالت نے فیصل واوڈا کے وکیل سے استفسار کیا کیا آپ نے جواب جمع کروا دیا ہے، وفاقی وزیر فیصل واوڈا کے جواب جمع نہ کرانے پر عدالت کا اظہار برہمی کرتے ہوئے کہا جب عدالت نے واضح حکم دیا تھا کہ جواب جمع کرائیں تو کیوں نہیں کرایا، عدالت کے ساتھ چھپن چھپائی کا کھیل نہ کھیلیں، ان چیزوں سے کوئی فائدہ نہیں ہوتا، آپ الیکشن کمیشن میں بھی پیش نہیں ہو رہے۔

فیصل واوڈا کے درخواست گزار کے وکیل سے مخاطب ہونے پر عدالت نے شدید اظہار برہمی کیا ، جسٹس عامرفاروق نے کہا کہ آپ نے ان سے مخاطب ہونا ہے یا عدالت سے، کیا آپ پہلی بار ہائیکورٹ میں پیش ہوئے ہیں، عدالتی کارروائی کا مذاق مت بنائیں، الیکشن کمیشن میں بھی آپ یہی کر رہے ہیں اور یہاں بھی۔

وکیل جہانگیر جدون نے کہا الیکشن کمیشن جا کر کہتے ہیں کہ ہائیکورٹ میں کیس زیرسماعت ہے، ہائیکورٹ میں کہتے ہیں کہ الیکشن کمیشن میں کیس زیرسماعت ہے۔

جسٹس عامرفاروق نے ریمارکس دیئے کہ آپ نے الیکشن کمیشن کی آرڈر شیٹ کیوں نہیں لگائی جس کی بنا پر آپ عدالت سے ریلیف مانگ رہے ہیں ، الیکشن کمیشن میں فیصل واوڈا نے موقف اپنایا ہو گا کہ یہاں کیس چل ہی نہیں سکتا، فیصل واوڈا نے الیکشن کمیشن میں درخواست کے قابل سماعت ہونے پر سوال اٹھا رکھا ہوگا۔

وکیل الیکشن کمیشن نے بتایا کہ جتنی بار بھی فیصل واوڈا سے کہا گیا ہے کہ جواب دیں انہوں نے نہیں دیا بعد ازاں عدالت نے سماعت 12 نومبر تک ملتوی کر دی۔

Comments

یہ بھی پڑھیں