The news is by your side.

Advertisement

جس نے جو کچھ کیا ہے وہ وہی بھگتے گا: وزیر داخلہ

اسلام آباد: وفاقی وزیر داخلہ اعجاز احمد شاہ کا کہنا ہے کہ نیب ایک آزاد اور خود مختار ادارہ ہے، ملک میں احتساب کا عمل شروع ہوگیا ہے۔ جس نے قصور کیا ہوگا اس سے پوچھا جائے گا۔

تفصیلات کے مطابق سابق وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی کی گرفتاری کے معاملے پر وفاقی وزیر داخلہ اعجاز احمد شاہ کا کہنا تھا کہ جس نے جو کچھ کیا ہے وہ بھگتے گا، ملک کسی ایک کا نہیں ہے ملک سب کا ہے، کسی نے کچھ کیا ہوگا جب ہی تو گرفتاری کی گئی۔

اعجاز شاہ کا کہنا تھا کہ پاکستان کو اس وقت معاشی چیلنجز کا سامنا ہے، پاکستان کے لیے عمران خان نے جو مناسب سمجھا وہ کیا۔ وزیر اعظم ہمیشہ ملکی مفادات میں ہی بات کرتے ہیں۔ اسمگلنگ روکنے کے لیے وزیر اعظم اور آرمی چیف کی ملاقات ہوئی ہے، ملک کو دیمک کی طرح جیسے کرپشن نے چاٹا ایسے اسمگلنگ بھی چاٹ رہی ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں ہمارا مستقبل پہلے سے بہتر ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ کسی کی گرفتاری میں حکومت کا کوئی عمل دخل نہیں، نیب ایک آزاد اور خود مختار ادارہ ہے۔ ملک میں احتساب کا عمل شروع ہوگیا ہے۔ جس نے قصور کیا ہوگا اس سے پوچھا جائے گا۔

وزیر داخلہ کا کہنا تھا کہ پاکستان کی پالیسی میں تبدیلی ہے، کریڈٹ تحریک انصاف کو جاتا ہے۔ کراچی میں امن و امان کی صورتحال بہتر ہوئی۔ فوج اور حکومت ایک صفحے پر ہیں۔ احتجاج ہر کسی کا حق ہے، احتجاج کے دوران تکلیف دیں گے تو حکومت کی ذمے داری ہے اسے روکے۔

انہوں نے کہا کہ تحریک انصاف کی حکومت میں ہر سطح پر تبدیلی آئی، اب کوئی بندوق لے کر نہیں چل سکتا۔ کلبھوشن یادیو سے متعلق قانون کے مطابق ہی فیصلہ ہوگا۔

خیال رہے کہ سابق وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی کو قومی ادارہ احتساب (نیب) راولپنڈی اور لاہور کی مشترکہ ٹیم نے تھوڑی دیر قبل ٹھوکر نیاز بیگ کے قریب ٹول پلازہ پر روک کر گرفتار کیا۔

نیب ذرائع کے مطابق شاہد خاقان عباسی کو وارنٹ گرفتاری دکھایا گیا اس کے بعد حراست میں لیا گیا۔ چیئرمین نیب جسٹس (ر) جاوید اقبال نے شاہد خاقان کے وارنٹ گرفتاری جاری کر رکھے تھے۔

نیب ذرائع کا کہنا ہے کہ طلبی پر شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ وہ لاہور میں ہیں نہیں آسکتے، ان کی لوکیشن ٹریس کرنے کے بعد انہیں حراست میں لیا گیا۔

سابق وزیر اعظم کو نیب کی جانب سے ایل این جی کیس میں آج طلب کیا گیا تھا تاہم وہ پیش نہیں ہوئے۔ نیب کی جانب سے انہیں 4 مرتبہ طلب کیا گیا مگر وہ ایک بھی بار پیش نہ ہوئے، وہ نیب کے سوال نامے میں صرف چند سوالوں کا جواب دے سکے تھے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں