The news is by your side.

لندن میں بیٹھے شخص کو میرٹ کا مطلب تک نہیں پتا، عمران خان

لاہور: چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کا کہنا ہے کہ مفرور، سزا یافتہ اور جھوٹا شخص کیسے ملک کے فیصلے کرسکتا ہے؟اسے تو میرٹ کا مطلب بھی نہیں پتا۔

تفصیلات کے مطابق حقیقی آزادی مارچ کے شرکا سے ویڈیو لنک کے ذریعے خطاب کرتے ہوئے عمران خان نے کہا کہ مفرور،سزایافتہ اورجھوٹا کیسےملکی فیصلےکرسکتاہے؟، ان کا ایک ہی مقصد ہےکہ کسی طرح عمران خان پر کیسزختم کرکےراستےسےہٹایاجائے۔

عمران خان نے کہا کہ اہم تعیناتی میں نوازشریف اس شخص سےایک ہی بات کہےگا کہ کسی نہ کسی طرح عمران خان کو راستے سےہٹایا جائے۔

حقیقی آزادی مارچ کے شرکا سے خطاب کرتے ہوئے عمران خان نے کہا کہ قوم ایسے شخص کو کیسےقومی سلامتی کےاہم فیصلےکرنےکی اجازت دے سکتی ہے؟ لندن میں بیٹھےاس شخص کی تاریخ دیکھ لیں آج تک میرٹ پرکوئی فیصلہ نہیں کیا، یہ شخص ہمیشہ ایسےلوگوں کو اوپرلاتاہےجو اس کےمفادات کو دیکھتے ہیں۔

اپنے خطاب میں عمران خان نے چیف جسٹس آف پاکستان کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ میں آپ سے اپیل کرتا ہوں کہ آپ کے پاس تین لینڈ مارک کیسز ہیں، چیف جسٹس صاحب ہمیں انصاف کی کہیں اورسےامید نہیں آپ کو دیکھ رہےہیں۔

انہوں نے بتایا کہ صحافی ارشد شریف کو دھمکیاں دی گئی، اس پر مقدمات درج کرائے گئے، نامور صحافی کو ملک سے بھگایا اور بیرون ملک قتل کرایا گیا۔

چیئرمین پی ٹی آئی نے کہا کہ اعظم سواتی کا کیس بھی لینڈمارک ہے،سینیٹرکو ایک ٹوئٹ پرگھرسےاٹھایاجاتاہے اور اس پر فیملی کے سامنے
تشدد کیا جاتا ہے، اعظم سواتی کو کسی اور کےحوالےکیاجاتاہےجو برہنہ کرکےان پرتشدد کرتے ہیں۔

چیف جسٹس کو مخاطب کرتے ہوئے عمران خان نے کہا کہ تیسرا میرا کیس ہے، ملک کی سب سےبڑی پارٹی کےسربراہ پرقاتلانہ حملہ ہوتاہے، میں تین لوگوں پرایف آئی آردرج کراناچاہتا ہوں پولیس کہہ رہی ہے وہ طاقتورلوگ ہیں، میری ایف آئی آردرج نہیں ہوتی قانون کی حکمرانی نہ ہونےکی اورکیامثال ہوگی؟۔

Comments

یہ بھی پڑھیں