امارات میں غیر قانونی مقیم بنگالی شہری کی 15 سال بعد گھر والوں سے ملاقات illegal-bangladeshi
The news is by your side.

Advertisement

امارات میں غیر قانونی مقیم بنگالی شہری کی 15 سال بعد گھر والوں سے ملاقات

ابو ظہبی : متحدہ عرب امارات میں غیر قانونی مقیم بنگلادیشی شہری اماراتی حکومت کی جانب اعلان کردہ ’ایمنسٹی اسکیم‘سے فائدہ اٹھاتے الفجیرہ میں قائم میگریشن سینٹر سے رابطہ کرلیا۔

تفصیلات کے مطابق ایمنسٹی اسکیم سے فائدہ اٹھانے کے لیے گذشتہ 15 برس سے متحدہ عرب امارات میں مقیم بنگلادیشی شہری ریاست الفجیرہ میں قائم امیگریشن سنٹر سے رابطہ کرنے کے بعد برسوں بعد اپنے گھر کے لیے روانہ ہوگا۔

عرب میڈیا کا کہنا تھا کہ محمد مانی نامی بنگلادیشی شہری اپنے ضامن کی وفات کے بعد گذشتہ دس برس سے متحدہ عرب امارات میں غیر قانونی طور پر مقیم تھا، لیکن حکومت نے ایمنسٹی اسکیم کے تحت مذکورہ شخص کی سزا اور جرمانہ معاف کردیا۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے کا کہنا تھا کہ محمد مانی نے اپنی سزا معاف ہونےکے بعد 15 برس بعد اپنے ملک بنگلا دیش روانہ ہوگا۔

بنگلا دیشی شہری کا کہنا تھا کہ ’میں 15 برس بعد اپنے والدین اور بیوی بچوں کو نہیں دیکھا اور آج رات بغیر کسی خوف کے نیند آئے گی، پہلے ڈر غیر قانونی طور یو اے ای میں قائم کرنے کے جرم میں گرفتار اور سزا کا ڈر رہتا تھا‘۔

محمد مانی کا کہنا تھا کہ میں اماراتی شخص کے ضمانتی ویزے پر ملازمت کی غرض سے متحدہ عرب امارات آیا تھا اور ملازمت کے دوران میرے مسئول نے کبھی میرے ساتھ زیادتی نہیں کی، تاہم مسئول کی وفات کے بعد میرے لیے شدید مشکلات پیدا ہوگئی تھیں کیوں ضامن کے رشتہ داروں نے میری ضمانت دینے سے انکار کردیا تھا۔

یاد رہے کہ ایمنسٹی اسکیم سے فائدہ اٹھانے کے لیے یو اے ای حکومت نے اپنے ملک میں قائم تمام سفارت خانوں کے نمائندگان سے اپیل کی ہے کہ وہ اپنے اپنے شہریوں کو وطن واپس جانے یا پھر متحدہ عرب امارات میں قیام کو قانونی بنانے کی ترغیب دیں تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگوں کے مسائل حل ہوں۔

عرب میڈیا کے مطابق جو غیر قانونی تارکین دبئی میں قیام کو قانونی بنانے کی استدعا کریں گے، انہیں مستقبل میں حکومت کی جانب سے عائد کیا جانے والا ٹیکس باقاعدگی سے ادا کرنا ہوگا۔

حکومت کی جانب سے متعارف کرانی جانے والی اسکیم سے فائدہ اٹھانے کے لیے پہلے روز غیر قانونی طور پر رہائش پذیر پندرہ سو تینتالیس (1543) افراد نے درخواستیں جمع کروائیں تھیں ،جن میں سے اکثر کی خواہش دبئی میں ہی مزید قیام کرنا تھا جبکہ کچھ نے اپنے اپنے وطن واپس جانے کی اجازت بھی مانگی تھی ۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں