اسلام آباد (14 اپریل 2026): وفاقی حکومت نے صوبائی حکومتوں کے تعاون سے ملک بھر میں غیر قانونی سگریٹوں کی فروخت کے خلاف مؤثر اور سخت کریک ڈاؤن کا فیصلہ کر لیا۔
پاکستان میں غیر قانونی سگریٹوں کی تجارت کے حوالے سے سے برطانیہ کی ریسرچ کمپنی آکسفورڈ اکنامکس کی ریسرچ رپورٹ کی لانچنگ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیر مملکت برائے خزانہ بلال اظہر کیانی نے کہا کہ ملک بھر میں غیر قانونی سگریٹ کی فروخت کو کنٹرول کرنا ناگزیر ہو چکا ہے۔
انہوں نے کہا کہ غیر قانونی سگریٹس نہ صرف قومی خزانے کو نقصان پہنچاتے ہیں بلکہ دستاویزی معیشت کو بھی متاثر کرتے ہیں اور ٹیکس دہندگان کی حوصلہ شکنی کا سبب بنتے ہیں، وزیر اعظم شہباز شریف خود مختلف شعبوں میں ٹیکس معاملات کی نگرانی کر رہے ہیں تاکہ ریونیو میں اضافہ یقینی بنایا جا سکے۔
یہ بھی پڑھیں: ای سگریٹ، ای شیشہ پر مکمل پابندی عائد
وزیر مملکت برائے خزانہ نے بتایا کہ سگریٹ کے شعبے میں ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم پر مکمل عملدرآمد کیا جائے گا جبکہ حکومت غیر قانونی سگریٹ تیار کرنے والی متعدد فیکٹریوں کو بند کر چکی ہے، اس کے علاوہ غیر قانونی سگریٹ فروخت کرنے والے ریٹیلرز کے خلاف چھاپے بھی جاری ہیں، صوبائی حکومتوں کے ساتھ مل کر غیر قانونی برانڈز کے خلاف کارروائیاں تیز کر دی گئی ہیں اور ان تمام اقدامات کا مقصد ایف بی آر کے ٹیکس ریونیو میں اضافہ کرنا ہے۔
اس موقع پر اینڈریو لوگان (ڈائیریکٹر انڈسٹری کنسلٹنگ، آکسفورڈ اکنامکس، انگلینڈ) نے ریسرچ رپورٹ کی تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں غیر قانونی سگریٹ کی فروخت ایک سنگین مسئلہ بن چکی ہے، اس وقت پاکستان میں فروخت ہونے والے 54 فیصد سگریٹس غیر قانونی ہیں جبکہ سال 2025 کے دوران 5.43 ارب غیر قانونی سگریٹس فروخت ہوئے۔
انہوں نے بتایا کہ ریسرچ رپورٹ کے مطابق غیر قانونی سگریٹ کی فروخت سے قومی معیشت کو سالانہ 274 سے 343 ارب روپے تک نقصان پہنچا جبکہ مجموعی نقصان 300 ارب روپے سے بھی تجاوز کر گیا۔
رپورٹ میں یہ بھی انکشاف کیا گیا کہ 2024 میں غیر قانونی سگریٹ مارکیٹ کا 64 فیصد حصہ ٹیکس ادائیگی کے بغیر فروخت ہونے والے مقامی سگریٹوں پر مشتمل تھا، مالی سال 2022 اور 2023 کے دوران سگریٹوں پر ایکسائز ڈیوٹی میں 107 فیصد اضافہ کیا گیا جس کے نتیجے میں قانونی سگریٹ کی قیمتیں 46 فیصد تک بڑھ گئی، ایکسائز ڈیوٹی میں اضافے کے باعث صارفین سستے، اسمگل شدہ اور بغیر ٹیکس ادا کیے گئے مقامی سگریٹوں کی جانب منتقل ہوگئے جس سے غیر قانونی مارکیٹ کو فروغ ملا اور ٹیکس بڑھانے کی پالیسی کے مطلوبہ نتائج حاصل نہ ہو سکے۔
سگریٹ سیکٹر میں نافذ کردہ ٹریک اینڈ ٹریس نظام بھی مکمل طور پر نافذ نہیں کیا جا سکا ہے اور اس وقت مارکیٹ میں دستیاب 477 سگریٹ برانڈز میں سے صرف 22 سگریٹ برانڈ پر ہی ٹریک اینڈ ٹریس نظام پر مکمل طور پر نافذ ہو سکا ہے۔
عالمی تقابلی جائزے میں رپورٹ نے بتایا کہ پاکستان میں 43.5 ارب غیر قانونی سگریٹس فروخت ہوئے جو کہ برازیل (37.7 ارب)، فرانس (18.9 ارب) اور جرمنی (15.7 ارب) سے بھی زیادہ ہیں جو اس مسئلے کی سنگینی کو واضح کرتا ہے۔
جہانگیر خان اے آر وائی نیوز اسلام آباد کے نمائندے ہیں۔ وہ پارلیمانی امور، صحت، کشمیر، جی بی اور پیپلز پارٹی سے متعلق خبریں رپورٹ کرتے ہیں۔


