The news is by your side.

Advertisement

شہریوں کی غیر قانونی حراست: لاہور ہائی کورٹ کا بڑا فیصلہ

لاہور: لاہور ہائیکورٹ نے شہریوں کو غیر قانونی حراست میں رکھنے سے متعلق کیس کا فیصلہ سنادیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق لاہور ہائیکورٹ نے شہریوں کو غیر قانونی حراست میں رکھنے سے متعلق کیس کا فیصلہ سنایا اور متعلقہ ایس ایچ او کو بیس ہزار جبکہ کانسٹیبل کو چالیس ہزار معاوضہ متاثرین کو ادا کرنے حکم دیا، ساتھ ہی عدالت عالیہ نے شہریوں کو گرفتار کرنیوالے کانسٹیبل اکرم ہجانہ کے اثاثوں کی چھان بین کا حکم دیا۔

لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس چوہدری عبدالعزیز نے تین افراد کو پولیس کی جانب سے حبس بے جا میں رکھنے کے خلاف کیس کا پندرہ صفحات پر مشتمل تحریری فیصلہ جاری کیا،عدالت نے اقوام متحدہ کنونشن کے تحت گرفتار ملزموں پر تشدد نہ کرنے کا بھی حکم جاری کیا ۔

عدلت عالیہ نے اپنے تحریری فیصلے میں کہا کہ پولیس میں تشدد کا رویہ ختم کرنے کیلئے اہلکاروں اور افسروں کی تربیت کرائی جاٸے اور مقدمات میں گرفتاری کے وقت فوری طور پر ملزموں کو وجوہات بھی فراہم کی جاٸیں ۔

اس کے علاوہ عدالت نے پنجاب کے تمام تھانوں میں روزنامچہ رجسٹر مرتب کرنے کی ہدایت کرتے ہوٸے قرار دیا کہ آئین شہریوں کی آزادی اور زندگی کے بنیادی حقوق کے تحفظ کی ضمانت دیتا ہے، تھانوں میں شہریوں کی غیرقانونی حراست انکے بنیادی حقوق کی نفی ہے، عدالتیں غیرقانونی طور پر حراست کے معاملے کو معمولی نہیں سمجھ سکتیں کیونکہ آٸین اس ملک کا مقدس ترین قانونی دستاویز ہے،کسی صورت شہریوں کے بنیادی آئینی حقوق پامال کرنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی ۔

اپنے تحریری فیصلے میں عدالت نے قرار دیا کہ حالیہ برسوں میں پولیس کے اپنے کام میں زوال پیدا ہوا ہے، شہریوں کے حقوق کو پامال کرنیوالے پولیس افسروں کیخلاف مقدمات درج کرنے اور محکمانہ کارروائیوں ہونی چاہیے تاہم امن و امان کیلئےجانیں دینے والے پولیس افسروں اور اہلکاروں کی قربانیوں سے غافل نہیں ہے، پولیس کی برے اعمال نے کرمنل جسٹس سسٹم کو تباہ کر کے رکھ دیا ہے ۔

Comments

یہ بھی پڑھیں