خاتون خانہ اپنی بیٹی کی حرکتیں بیان کرتے ہوئے آبدیدہ ہوگئی کہا کہ اسے بیٹی سے ڈر لگتا ہے اس کا رویہ بہت تحقیر آمیز ہوتا ہے۔
اے آر وائی کے مارننگ شو میں خاتونے اپنی یونیورسٹی جانے والی بیٹی کی حرکتوں سے پردہ ہٹا دیا، انھوں نے بتایا کہ میری بیٹی گھر سے یونیورسٹی برقعے میں جاتی تھی مگر وہاں جاکر وہ عبایا اتار دیتی اور جینز اور ٹاپ میں نظر آتی، اس کے والد غصے کے بہت تیز ہیں۔
خاتون نے بتایا کہ میں نے بیٹی کو دبے لفظوں میں سمجھایا کہ بیٹا آپ کو اس لیے پڑھا لکھا رہے ہیں کہ آپ نے اگلے گھر جانا ہے۔
جواب میں خاتون کی بیٹی کا کہنا تھا کہ مجھے میری زندگی جینے دیں آپ نہیں تو میں یہ گھر چھوڑ کر چلی جاؤں گی میں نے اسے کہا بیٹا آرام سے تایا ابو رہتے ہیں، چاچو رہتے ہیں۔
خاتون نے بتایا کہ میری بیٹی کی دوست نے مجھے آکر اسکا انسٹاگرام دکھایا اور بتایا کہ دیکھیں حبا کرکیا رہی ہے، میں نے بیٹی سے پوچھا تو وہ ماننے کو تیار ہیں نہیں تھی۔
انھوں نے کہا کہ ہم نے اپنی بیٹی کےلیے بہت اچھا چاہا کہ اسے پڑھائیں لکھائیں، اسکول کالج تک تو سمجھ آتا رہا جب وہ یونیورسٹی جانے لگی تو مجھے لگا کہ وہ آؤٹ آف کنٹرول ہورہی ہے، میں نے اسے سمجھایا کہ ہم مڈل کلاس لوگ ہیں۔
خاتون کے مطابق انھوں نے بیٹی کو کہا کہ تم جس طرح کی فرینڈشپ کررہی ہو یہ تمہارے والد کو اچھا نہیں لگے گا لیکن وہ کسی طرح میری بات سننے کو تیار نہیں تھی، اس کی دوستی اتنے اونچے لوگوں میں ہوگئی کہ وہ میری بات پر کوئی توجہ نہیں دیتی تھی۔
وہ میری تحقیر کرنے لگ گئی تھی، میرے سامنے اونچا بولنے لگ گئی تھی، مجھے ڈرانے کی کوشش کرتی تھی، میں نے کہا کہ ہم جوائنٹ فیملی میں رہتے ہیں، مگر وہ اتنی پاور فل ہوگئی تھی کہ اس نے کہا کہ مما مجھے جینے دیں۔
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں


