پیر, اپریل 13, 2026
اشتہار

عماد وسیم نے بھارت کیخلاف شکست کی ذمہ داری قبول کرلی

اشتہار

حیرت انگیز

کراچی: پاکستان کے آل راؤنڈر عماد وسیم نے قومی ٹیم کے کھلاڑیوں پر زور دیا ہے کہ وہ اپنی کارکردگی کی ذمہ داری قبول کریں اور ناکامیوں کا ملبہ دوسروں پر ڈالنے کے بجائے خود احتسابی کا مظاہرہ کریں۔

کولمبو میں بھارت کے خلاف میچ میں گرین شرٹس کو 61 رنز سے شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا۔

ایک اسپورٹس شو میں گفتگو کرتے ہوئے عماد وسیم نے اس تاثر کو مسترد کیا کہ ٹیم کی ناکامی کی بڑی وجہ ناتجربہ کاری ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ موجودہ اسکواڈ کے بیشتر کھلاڑی 100 سے زائد ٹی ٹوئنٹی میچز کھیل چکے ہیں۔

انہوں نے کہا، اگر اتنا تجربہ رکھنے اور 100 سے زائد ٹی ٹوئنٹی میچز کھیلنے کے باوجود ہم آئی سی سی ایونٹ جیتنے میں ناکام ہیں تو اس کا مطلب ہے کہ مسئلہ ہم کھلاڑیوں میں ہے۔

عماد وسیم نے واضح کیا کہ ناکامی کا ذمہ دار کوچز یا نظام کو قرار دینا درست نہیں۔

انہوں نے کہا کہ مسئلہ نہ کوچز میں ہے اور نہ ہی سسٹم میں۔ اگر آپ 100 سے 150 ٹی ٹوئنٹی میچز کھیل چکے ہیں تو آپ کو اپنی کارکردگی کی ذمہ داری خود لینی چاہیے اور مینجمنٹ پر الزام نہیں لگانا چاہیے۔

عماد وسیم نے کہا کہ محمد عامر کے ساتھ ان کی سب سے بڑی خواہش ورلڈ کپ جیتنا تھی، کیونکہ وہ کئی برسوں سے دنیا بھر میں مختلف ٹی ٹوئنٹی لیگز کھیلتے آ رہے تھے، تاہم معاملات منصوبے کے مطابق نہ چل سکے۔

انہوں نے آئی سی سی ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ 2024 میں بھارت کے خلاف میچ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ 23 گیندوں پر 15 رنز بنانے کے بعد انہیں شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑا۔

ان کا کہنا تھا، ”اگلے دن میں نے اپنی ذمہ داری قبول کی۔ ڈریسنگ روم میں کھڑے ہو کر اعتراف کیا کہ غلطی مجھ سے ہوئی۔ اپنی غلطی مان لینے سے انسان چھوٹا نہیں ہوتا بلکہ اسے خود احتسابی کا موقع ملتا ہے۔ آپ کو ہاتھ اٹھا کر کہنا چاہیے کہ ہاں، مجھ سے غلطی ہوئی اور میری وجہ سے ٹیم کو شکست ہوئی ہے۔“

عماد نے موجودہ کھلاڑیوں پر زور دیا کہ وہ بھی یہی رویہ اپنائیں اور ناکامی کی صورت میں الزام تراشی کے بجائے ذمہ داری قبول کریں۔

سپر ایٹ مرحلہ، پاکستان اور نیوزی لینڈ کے درمیان پہلا میچ آج ہوگا

انہوں نے کہا، ”ہمیں حقیقت تسلیم کرنی ہوگی کہ ہم بھارت کے خلاف اچھا نہیں کھیل سکے۔ ہماری بولنگ بھی خراب تھی اور بیٹنگ بھی۔ اب ہمیں عہد کرنا ہوگا کہ ان غلطیوں کو درست کریں گے۔“

+ posts

اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں

اہم ترین

ویب ڈیسک
ویب ڈیسک
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں

مزید خبریں